بجٹ مالی سال2018-19کے معاملے پرصوبائی حکومت کی قلابازیاں

بجٹ پاس کرنے کیلئے حکومت کو عددی اکثریت درکار، 14مئی کا اسمبلی اجلاس 22 مئی تک موخرکردیا گیا

جمعہ مئی 18:53

بجٹ مالی سال2018-19کے معاملے پرصوبائی حکومت کی قلابازیاں
پشاور۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 مئی2018ء) صوبائی بجٹ مالی سال2018-19کوپاس کرنے کیلئے عددی اکثریت نہ ہونے پر خیبرپختونخواحکومت کی قلابازیاں، 14مئی کو طلب کیاجانے والاصوبائی اسمبلی کابجٹ اجلاس22مئی تک موخر کردیا۔صوبائی حکومت کی جانب سے جاری ہونیوالے نوٹیفیکیشن کے مطابق 14مئی کو طلب کیا جانیوالااجلاس اب22مئی کوہوگا جس میں توقع کی جارہی ہے کہ صوبائی حکومت اپنابجٹ پیش کریگی تاہم اپوزیشن کی جانب سے حمایت حاصل نہ ہونے پر خیبرپختونخواحکومت کوبجٹ پاس کرنے میں مشکلات کاسامناہے ۔

خیبرپختونخوااسمبلی کی124اراکین میں سے اس وقت122اراکین موجود ہیں جس میں تحریک انصاف کو چالیس سے کم امیدواروں کی حمایت حاصل ہے دوحمایت یافتہ اور 18پارٹی اراکین کو پہلے ہی سینیٹ انتخابات میں ووٹ فروخت کرنے پر نکالا جاچکاہے دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں عوامی نیشنل پارٹی اور جے یوآئی نے بھی بجٹ معاملے پر حکومت کی حمایت نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جس کے باعث مالی سال2018-19کاصوبائی بجٹ پیش کرنے کی امیدیں دم توڑتی جارہی ہیں۔

(جاری ہے)

یاد رہے کہ خیبرپختونخواحکومت نے گزشتہ ماہ اعلان کیاتھا کہ وہ بجٹ مالی سال2018-19پیش نہیں کریگی 15اپریل کو اس اعلان کے بعد 24اپریل کو ایک مرتبہ پھراعلان کیاگیاکہ بجٹ مالی سال2018-19ء اب 14مئی کو پیش کیاجائے گا تاہم صوبائی حکومت کی جانب سے ایک مرتبہ پھر اجلاس کو مزید8دنوں کیلئے موخر کیاگیاہے۔