احترامِ رمضان: متحدہ عرب امارات والے رہیں ہوشیار

خلاف ورزی کرنے والے کو بھاری جُرمانے کے علاوہ جیل کی ہوا بھی کھانی پڑے گی

Muhammad Irfan محمد عرفان بدھ جون 15:39

احترامِ رمضان: متحدہ عرب امارات والے رہیں ہوشیار
دوبئی (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ 6 جُون 2018ء) متحدہ عرب امارات کی عدالتوں میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران درجنوں غیر مسلم لائے گئے ہیں جن پر اوقاتِ روزہ کے دوران عوامی مقامات پر خورد و نوش کا مرتکب ہونے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ احترام رمضان کی خلاف ورزی کے حوالے سے زیر سماعت کئی مقدمات میں ملزمان کا دعویٰ تھا کہ وہ غیر مسلم ہونے کے باعث احترامِ رمضان کے قانون سے مستثنیٰ ہیں۔

جس پر عدلیہ کے ججوں کی جانب سے اس حوالے سے اماراتی پالیسی کی وضاحت کی گئی۔ بیشتر ملزمان کا کہنا تھا کہ اُن سے دانستگی میں احترامِ رمضان کے قانون کی خلاف ورزی ہوئی ہے‘ کیونکہ وہ قانون سے قطعی لاعلم تھے۔مگر عدالت میں اُن کے اس موقف پر اُنہیں سزا سے مستثنیٰ قرار نہیں دیا گیا۔

(جاری ہے)

ایک مقامی ماہر قانون حسن الہاس نے بتایا کہ دُنیا کے کسی بھی خطے میں رائج قانون کے بارے میں ناواقف ہونا سزا سے نہیں بچا سکتا۔

اماراتی ضابطۂ تعزیرات میں احترامِ رمضان کے حوالے سے مسلم اور غیر مسلم میں کوئی تخصیص نہیں کی گئی ہے۔ دونوں پر ایک جیسے ضوابط اور سزائیں لاگو ہوتی ہیں۔ قانون کے مطابق عوامی مقامات پر روزے کے اوقات کے دوران خورد و نوش کے مرتکب شخص کو ایک ماہ قید کی سزا کے علاوہ دو ہزار اماراتی درہم کے بھاری جُرمانے کی سزا بھی سُنائی جا سکتی ہے۔ اگر اس وقت کے دوران کسی دُکان پر کوئی شخص کھاتا پیتا پایا گیا تو وہ دُکان بھی ایک ماہ کے لیے سِیل کی جائے گی۔

اس حوالے سے امارات میں مقیم شہریوں کو پُوری معلومات ہونی چاہیے۔ وہ کسی کے بہکاوے میں آ کر یا مذاق کا نشانہ بن کر اس قِسم کی حرکت سے اجتناب برتیں جس کے بدلے میں اُنہیں سلاخوں کے پیچھے جانا پڑ جائے۔ قانون بہت واضح ہے کہ روزے کے دوران کھُلم کھُلا کھانا پینا سخت منع اور قابلِ تعزیر جُرم ہے۔