اللہ نے اپنی پہچان خوب توبہ قبول کرنیوالے کے طور پر کروائی ہے ‘ڈاکٹر طاہرالقادری

جہاں لوگ معافی مانگتے ہوں وہاںاللہ کا عذاب نازل نہیں ہوتا ، انسانی خمیر میں نیکی کے ساتھ بدی پیوست ہے ،راہ حق کے مسافروں کیلئے توبہ پہلا قدم ہے‘رمضان المبارک میں سچے دل سے توبہ اور احوال کی اصلاح کی جائے، شہر اعتکاف میں خطاب

جمعہ جون 18:01

اللہ نے اپنی پہچان خوب توبہ قبول کرنیوالے کے طور پر کروائی ہے ‘ڈاکٹر ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 08 جون2018ء) تحریک منہاج القرآن کے بانی و سرپرست ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے کہا ہے کہ راہ حق کے مسافروں کیلئے توبہ پہلا قدم ہے، اللہ رب العزت نے قرآن حکیم میں بندوں کو توبہ کی تلقین فرمائی ہے،گناہوں سے باز رہنے کے مصمم عزم و ارادہ کے ساتھ اللہ کے حضور سر جھکانا توبہ ہے ،جس طرح عبادت گزاروں کیلئے پہلا قدم طہارت ہے اسی طرح راہ حق کے مسافروں کیلئے سب سے پہلا قدم توبہ ہے۔

منہاج القرآن کے شہر اعتکاف میں انہوں نے اپنے خطاب میں کہاکہ انسانی خمیر میں نیکی کے ساتھ بدی نہایت مضبوطی سے پیوست ہے، اللہ رب العزت نے قرآن حکیم میں متعدد مقامات پر توبہ کرنے کا حکم دیا ہے اور اپنی پہچان خوب توبہ قبول کرنے والے کے طور پر کروائی ہے۔

(جاری ہے)

سورہ البقرہ میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ’’بے شک اللہ بہت توبہ کرنے والوں اور پاکیزگی اختیار کرنے والوں سے محبت فرماتا ہے‘‘انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ جب شیطان نے جنت میں دائمی اور ملکوتی زندگی کے حصول کا فریب دے کر حضرت آدم اور حضرت حوا کو ممنوعہ درخت کے پھل کھانے پر آمادہ کر لیا تو یوں نسل انسانی میں بھول چوک سے سرزد ہونے والی خطاء وجود میں آئی اس پر اللہ تعالیٰ نے نہ صرف معافی مانگنے کے کلمات سکھائے بلکہ آدم وحوا کی توبہ بھی قبول فرمائی۔

انہوں نے کہا کہ قرآن مجید میں بے شمار مقامات پر انسانوں کو خلوص نیت سے توبہ کرنے اور آئندہ کیلئے اس پر ثابت قم رہنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ اگر انسان قرآن حکیم کا مطالعہ کمال انہماک، توجہ، خلوص اور اس کی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی نیت سے کرے تو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے ابواب اس پر کھلتے چلے جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر اللہ رب العزت کی رحمت ہر شے پر محیط نہ ہوتی تو یہ دنیا کب کی غضب الٰہی کا شکار ہو کر ہلاک ہو چکی ہوتھی۔

ذات حق تعالیٰ تو بخشنے کا بہانہ ڈھونڈتی ہے، یہ بخشنے کا بہانہ ہی تو ہے جہاں لوگ معافی مانگتے ہوں وہاںاللہ کا عذاب نازل نہیں ہوتا اور عظیم نعمت یہ ہے کہ قبول توبہ کے بعد اس کے گناہ نیکیوں میں تبدیل کر دئیے جاتے ہیں۔ سورہ الفرقان میں ارشاد باری تعالیٰ ہے’’جس نے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیا تو یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ جن کی برائیوں کو نیکیوں سے بدل دے گا اور اللہ بڑا بخشنے والا نہایت مہربان ہے‘‘ ڈاکٹر طاہرالقادری نے کہا کہ رمضان المبارک کی مقدس گھڑیاں توبہ و استغفار کی فکر کے ساتھ گزاری جائیں اور سچے دل سے اللہ سے توبہ کر کے احوال کی اصلاح کی جائے۔