ماضی میں ناجائز تجاوزات اور قبضہ مافیا کی کارروائیوں کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت میں واقع گرین ایریاز کو شدید نقصان پہنچا ہے،

گرین ایریاز کے تحفظ کے حوالے سے ہر ممکن اقدامات ترجیحی بنیادوں پر اٹھائے جائیں وزیر اعظم عمران خان کی مشیر موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم سے گفتگو

منگل 2 جون 2020 21:19

ماضی میں ناجائز تجاوزات اور قبضہ مافیا کی کارروائیوں کی وجہ سے وفاقی ..
اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2020ء) وزیر اعظم عمران خان نے وفاقی دارالحکومت کے قدرتی حسن کو محفوظ رکھنے اور ماحولیات کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ماضی میں ناجائز تجاوزات اور قبضہ مافیا کی کارروائیوں کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت میں واقع گرین ایریاز کو شدید نقصان پہنچا ہے، گرین ایریاز کے تحفظ کے حوالے سے ہر ممکن اقدامات ترجیحی بنیادوں پر اٹھائے جائیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کو مشیر موسمیاتی تبدیلی ملک امین اسلم سے ملاقات کے دوران گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر معاون خصوصی علی نواز اعوان، سیکرٹری داخلہ، چیئرمین سی ڈی اے و دیگر سینئر افسران بھی موجود تھے۔ ملک امین اسلم نے وفاقی دارالحکومت کے قدرتی حسن اور ماحولیات کے تحفظ کے حوالے سے وزارت ماحولیات کی جانب سے شروع کیے جانے والے مختلف منصوبوں پر وزیر اعظم کو بریفنگ دی۔

(جاری ہے)

ان منصوبوں میں بوٹینیکل گارڈن کا قیام، مارگلہ ہلز نیشنل پارک کا تحفظ اور فروغ، وفاقی دارالحکومت کی تزئین و آرائش اور اسلام آباد چڑیا گھر کی اپ گریڈیشن جیسے منصوبے شامل ہیں۔ وفاقی دارالحکومت میں واقع گرین ایریاز کے تحفظ کے لیے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ایسے تمام گرین ایریاز کی نشاندہی کرکے انہیں مارگلہ ہلز نیشنل پارک کا حصہ بنایا جائے گا۔

وزیر اعظم نے وفاقی دارالحکومت کے قدرتی حسن کو محفوظ رکھنے اور ماحولیات کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ماضی میں ناجائز تجاوزات اور قبضہ مافیا کی کاروائیوں کی وجہ سے وفاقی دارالحکومت میں واقع گرین ایریاز کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گرین ایریاز کے تحفظ کے حوالے سے ہر ممکن اقدامات ترجیحی بنیادوں پر اٹھائے جائیں۔ وفاقی دارالحکومت میں واقع کمرشل ایریاز ، سرکاری و پرائیویٹ دفاتر کے باہر اور اردگرد گرین ایریاز میں واقع کار پارکنگ کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے وزیر اعظم نے مشیر ماحولیات، سی ڈی اے اور اسلام آباد انتظامیہ کو ہدایت کی کہ اس مسئلے کے حل کے لیے تجاویز کو آئندہ دوہفتوں حتمی شکل دی جائے۔

متعلقہ عنوان :