Aik Aadmi Parindon Ki Dukaan - Joke No. 1024

ایک آدمی پرندوں کی دوکان - لطیفہ نمبر 1024

ایک آدمی پرندوں کی دوکان میں بطور مینجر کام کر رہا تھا۔ پرندے فروخت کرنے کے علاوہ یہ بات بھی اس فرائض میں شامل تھی کہ وہ اپنے معزز گاہکوں کے پالتو پرندوں کے پروں کو سنوارے اور چمکائے تا کہ وہ مزید خوبصورت دکھائی دینے لگیں۔ ایک روز ایک ادھیڑ عمر خاتون اپنا طوطا لے آئیں وہ ایک طوطے کے پر سنوار رہا تھا کہ اس کمبخت نے انگوٹھا زور سے کاٹ کھایا‘ بے ساختہ اس کے منہ سے ہلکی سی چیخ نکلی۔ اس نے بمشکل اپنے غصے پر قابو پایا اور ان گالیوں کو روک لیا جو وہ اس طوطے کو دینا چاہ رہا تھا۔ دوکان میں ایک بد زبان اور بد مزاج طوطا بھی تھا جسے اس کے مالک نے کئی گالیاں سکھا رکھی تھیں‘ وہ شریر طور اس لمحے گالیاں بکنے لگا۔ اس طوطے کی اس بدتمیزی پر وہ ادھیڑ عمر خاتون سے معذرت چاہنے لگا مگر اس خاتون نے ہاتھ کے اشارے سے روک دیا اور مسکرا کر بولیں۔ ”میرا خیال ہے کہ آپ جو کچھ کہنا چاہتے تھے وہ اس شریر طوطے نے کہہ دیا ہے۔“

مزید لطیفے

ایک حجام

aik hajjam

دکان

Dukan

دو بچے

do bache

مرغی

murghi

ایک دوست دوسرے سے

Aik dost doosre dost se

ایک بیوقوف

Aik bewakoof

عصمت چغتائی

ismat chughtai

آسان پہیلی

aasan paheli

دو افیمی رات کو

do afeemi raat ko

ڈیڈی

Dady

شرمناک بات

Sharam Nak Bat

کنجوس سیٹھ سے

Kanjoos seth se

Your Thoughts and Comments