Master Sahib

ماسٹر صاحب

ماسٹر صاحب نے لڑکوں کو سوال کھایا۔ ”دل کی شکل بنا کر اس کے کام بتائیں۔“ ایک لڑکے نے سوال حل کرنے کے بعد کاپی ماسٹر صاحب کو دکھائی۔ لکھا تھا۔ ”دل ایک نازک چیز ہے۔ یہ لینے دینے کے بھی کام آتا ہے اگر ٹوٹ جائے تو ہرگز نہیں جڑتا۔ اگر کسی کی یاد آ جائے تو بہت بیقرار ہو جاتا ہے۔ نیز یہ خون کے آنسو بھی روتا ہے۔“

Your Thoughts and Comments