Mughai Paisai Ki Kya Purwaa

مجھے پیسے کی کیا پرواہ

”مجھے پیسے کی کیا پرواہ! پیسہ تو ہاتھ کا میل ہے۔“ محمود نے یہ کہتے ہوئے جیب سے سو کا ایک نوٹ نکالا اور ماچس کی تیلی سے جلا کر راکھ کر دیا۔ یہ دیکھ کر سلیم نے کہا۔ ”بس اتنی سی ہمت تھی مجھے دیکھو۔“ اس نے چیک بک نکالی اور دس ہزار کا چیک کاٹا‘ دستخط کئے اور جلا کر ہوا میں اڑا دیا۔

Your Thoughts and Comments