Universty

یونیورسٹی

”ڈیئر! آج ہم یونیورسٹی سے چھٹی کرتے ہیں آج میرا دل تم سے باتیں کرنے کو چاہ رہا ہے۔ ہم آج شہر سے باہر جائیں گے اس جگہ نہ گاڑیوں کا شور ہو نہ لوگوں کا ہجوم‘ اور جہاں تمہارے ڈیڈی کا خوف ہو نہ میرے والد گا ڈر۔ تمہارے اور میرے علاوہ کوئی نہ ہو۔“ ”لیکن تم وہاں مجھے چھیڑو گے تو نہیں؟“ لڑکی نے سوال کیا۔ ”بالکل بھی نہیں“ لڑکے نے جلدی سے جواب دیا۔ ”تو پھر وہاں جانے کا کیا فائدہ“ لڑکی بیزار ہو کر بولی۔

Your Thoughts and Comments