Main Kaghaz Hun

Main Kaghaz Hun

میں کاغذ ہوں

میں کاغذ کا رجسٹر ہوں جس کی قیمت 100روپے ہے۔ میرا رنگ سفید ہے جس پر سبز اور سرخ لائنیں لگی ہوئی ہیں۔ اس سے میری شان وشوکت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔

محمد ابوبکر، پھولنگر:
میں کاغذ کا رجسٹر ہوں جس کی قیمت 100روپے ہے۔ میرا رنگ سفید ہے جس پر سبز اور سرخ لائنیں لگی ہوئی ہیں۔ اس سے میری شان وشوکت میں مزید اضافہ ہوجاتا ہے۔ میں بڑے شوق سے ” بک ڈپو“ پر رہتا تھا کہ فاطمہ کے پاپا مجھے خریدکرلے گئے۔
میرا خیال تھاکہ فاطمہ مجھے سنبھال کررکھے گی مگر اس نے مجھ پر کارٹون بنائے اور کچھ ورق پھاڑ کر ڈسٹ بن میں پھینک دیئے تو میرے آنسونکل آئے۔ فاطمہ کو کیا پتہ کہ مجھے بنانے کیلئے کن کن مراحل سے گزارا گیا تاکہ اس قابل ہوجاؤں کہ بچے مجھ پر ہوم ورک کر کے بڑے آدمی بنیں۔

آئیے آج میں آپ کو بتاتا ہوں کہ مجھے یعنی ” کاغذ“ کوکیسے بنایا جاتا ہے۔ میرے آباؤ اجداد کا تعلق چین سے ہے۔ پہلے پہل انہوں نے مجھے درختوں کی چھال باریک پیس کر پانی کی مدد سے بنایا پھر دھوپ میں خشک کیا۔

(جاری ہے)

یوں میری ابتدائی شکل بنی اور مجھ پر انسان نے لکھنا شروع کیا۔

زمانہ ترقی کرتا گیا نت نئے نئے تجربے ہوئے ‘ مجھے بنانے کے جدید طریقے اپنائے گئے ۔ یقینا آپ نے گندم کاپودا دیکھا ہوگا‘ جب گندم پک جاتی ہے تواس کے دانے لئے اور بھوسہ علیحدہ علیحدہ کرلئے جاتے ہیں، اس بھوسے کو توڑی کہتے ہیں۔
اس سے کاغذ بنایا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ سفیدے کی لڑی کوباریک پیس کر اور گنے کے بھوسے کوبھی کاغذ بنانے کیلئے استعمال کیاجاتا ہے۔ توڑی اور بگاس کوپانی سے دھویا جاتا ہے۔ اس کے بعد بڑے بڑے ٹینکوں میں ڈال کر بھاپ اور کیمیکل کی مدد سے نرم کیاجاتا ہے اور واشنگ فلٹروں سے گزار کر صاف کیا جاتا ہے۔
اس کے بعد فیصلہ کیا جاتا ہے کہ مجھے سفید کاغذبنایا ہے یا براؤن اس مرحلے میں کلورین گیس یاہائپو کاا ستعمال کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد اگلا مرحلہ شروع ہوجاتا ہے اور مجھے بڑے بڑے حوضوں میں ڈالا جاتا ہے۔ اسی مرحلہ میں وہاں مجھے مکس کیا جاتا ہے۔
میری اس شکل کو پلپ کہتے ہیں۔ اسی مرحلے میں میرے رنگ وروپ کا فیصلہ کیا جاتا ہے اور اسی کے مطابق کیمیکل اور رنگ ڈالے جاتے ہیں۔ اس کے بعد رولرز کی مدد سے مجھے کاغذ کی شکل میں بناکر مرحلہ شروع ہوا۔ میری پلیٹ کو رولز کاغذ بناکروہیں خشک کرکے لپیٹ دیا جاتا ہے جسے ریل کہتے ہیں۔

اس سارے عمل میں میرا سائز اور کوالٹی پر بھر پور توجہ دی جاتی ہے۔ پھران ریلز کوری وائینڈ رپر مختلف سائز میں کاٹا جاتا ہے۔ اس کے بعد مجھے فنشنگ ہاؤس منتقل کردیا جاتا ہے۔ جہاں کٹرز کی مدد سے ٹکڑے کئے جاتے ہیں۔ پھر میرے بنڈل بناکر ان پرکوالٹی‘ وزن اور سائز کے سٹیکرز لگا دیئے جاتے ہیں۔
اس کے بعد ٹرکوں پر لوڈ کرکے بڑے شہروں میں بھیجا جاتا ہے جہاں چھوٹی مشینوں اور کٹرز کی مدد سے کاپیوں رجسٹروں اور شیٹوں کے حساب سے کاٹا ہے۔ اس کے بعد لائنیں لگاکر میری خوبصورتی میں اضافہ کیا جاتا ہے اور مختلف سائز کی کاپیاں‘ رجسٹر اور ڈائریاں بنائی جاتی ہیں۔
آپ نے دیکھا مجھے بنانے میں کتنی محنت لگتی ہے اور خود مجھے کتنی تکلیف ہوتی ہے۔ مجھے بار بار پیسا اور کاٹا جاتا ہے۔ بھاپ گرم رولروں پر خشک کیا جاتا ہے‘ میرے ذریعے آپ علم حاصل کرکے آپ بڑے آدمی بن سکتے ہیں۔ مجھے افسوس اس وقت ہوتا ہے جب آپ مجھ پر کارٹون بناتے ہیں۔ بے رابط لکیریں لگاتے ہیں اور پھاڑ کر ڈسٹ بن میں پھینک دیتے ہیں۔ اس وقت میرے آنسو نکل آتے ہیں۔ آج مجھ سے وعدہ کریں مجھ پر ہوم ورک کریں گے اور سنبھال کررکھیں گے۔

Your Thoughts and Comments