Nayaab Jungli Janwar Panda Ka Sab Se Bara Ghar

نایاب جنگلی جانور پانڈا کا سب سے بڑا گھر

اس نایاب جانور کے متعلق تحقیقات منافع بخش تو نہیں ہیں لیکن اس سے پانڈا اور کچھ دیگر جانوروں کی نایاب نسل کو محفوظ بنایا گیا ہے۔ اس ریسرچ بیس میں

جمعرات فروری

nayaab jungli janwar Panda ka sab se bara ghar

جنگلی حیات کے نایاب جانور پانڈا کی نسل کو بچانے اور افزائش کیلئے چین کے صوبہ سیچوان کے دارالخلافہ "چھنگ دو" میں تحقیاتی مرکز بنایا گیا ہے جسے پانڈا بریڈنگ یا چھنگ دو پانڈا بیس کہتے ہیں۔ اور اسے دنیا میں پانڈا کے تحفظ کے حوالے سے سب سے بڑا گھر کہا جاتا ہے۔


اس نایاب جانور کے متعلق تحقیقات منافع بخش تو نہیں ہیں لیکن اس سے پانڈا اور کچھ دیگر جانوروں کی نایاب نسل کو محفوظ بنایا گیا ہے۔ اس ریسرچ بیس میں پانڈا اور جنگلی حیات کیلئے پالتو جانوروں جیسی سہولیات مہیا کی گئی ہیں۔

چھنگ دو پانڈا بیس کو 1987 میں قائم کیا گیا تھا۔ اس وقت یہاں 6 بڑے پانڈا رکھے گئے تھے جنہیں جنگل سے لایا گیا تھا. 2008 تک، اس کے پاس 124 پانڈا کی پیدائش تھی مگر اس کی تعداد میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے کیونکہ ہر سال کئی نئے پانڈا کی پیدائش ہوتی ہے تو کئی مر جاتے ہیں۔

(جاری ہے)


پانڈا مرکز بنائے جانے سے "ورلڈ کلاس ریسرچ سہولت، تحفظ تعلیم کے مرکز سمیت بین الاقوامی سیاحت کا بھرپور فائدہ اٹھایا جارہا ہے۔
چھنگ دو جائنٹ پانڈا بریڈنگ ریسرچ فاونڈیشن بنیادی طور خیراتی ادارہ ہے۔
فاؤنڈیشن نے اپنے قیام سے لیکر اب 8 مختلف پروگراموں کے لئے عطیات اکٹھے کئے ہیں ان پرو گراموں میں جائنٹ پانڈا سائٹیفک ریسرچ اور دیگر پروگرامز شامل ہیں۔
فاؤنڈیشن ہر سال اس حوالے سے تعلیم اور معلومات کی فراہمی کے لئے اپنے وسائل کا قابل قدر حصہ مختص کرتی ہے۔ فاؤنڈیشن کی پبلک ایجوکیشن کمپین "پانڈا کلاس " کافی شہرت رکھتی ہے جو پانڈا نسل کی حفاظت اور ماحولیاتی تحفظ کیلئے عوامی شعور اجاگر کرنے کی بہت کارگر ثابت ہو رہی ہے۔

فاؤنڈیشن کی مالی سپورٹ سے کام کرنے والے اداروں نے سائنسی تحقیق اور جنگلی حیات کے تحفظ کیلئے گراں قدر کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
پانڈا کی اہمیت یوں تو دنیا بھر میں مانی جاتی ہے لیکن چھنگ دو کو پانڈا سٹی بھی کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔
دنیا بھر سے سیاح پانڈا کی جھلک دیکھنے کیلئے اس شہر کا رخ کرتے ہیں۔ چین میں رہائش کے اعتبار سے اس شہر کی اہمیت تیسرے نمبر پر ہے جہاں موسم سرما میں نہ تو شدید سردی پڑتی ہے اور نہ ہی گرمیوں میں موسم زیادہ گرم ہوتا ہے۔ایک اور خاص بات اس شہر کے باسیوں کے چہرے مسکراتے ہوئے ملیں گے۔
یہی وجہ ہے کہ کمیونیکشن یونیورسٹی آف چائنہ نے اس شہر کے وزٹ کا خصوصی اہتمام کیا۔
چھنگ دو کی اہمیت زیادہ ہونے کی ایک اور وجہ اس شہر کے قریب چین کا قدیم آبپاشی نظام " ڈوجیانگ ویر" ہے جس میں ایک دریا کئی دریاوں میں تقسیم ہوتا ہے۔

ڈیوجنان شہر سچیان، چین میں قدیم آبپاشی کا نظام ہے۔ درحقیقت یہ نظام چن آبادی کو محفوظ اور سیلاب کو کنٹرول کرنے کیلئے چن ریاست کی طرف سے تقریبا 256 ق.م. کی تعمیر ہے ، جو آج بھی استعمال میں ہے۔
پہاڑوں کے سنگم میں دریاوں کی تقسیم کا یہ دلکش نظام سیاحوں کو اپنی طرف کھینچتا ہے۔
یہ دریا اس علاقے میں 5،300 مربع کلومیٹر اراضی کو سیراب کرتے ہیں۔
مجموعی طور پر اس منصوبے کو "تین عظیم ہائیڈرولک انجینئرنگ منصوبوں" کے طور پر جانا جاتا ہے۔
چنگ شنگ ماؤنٹ ایک مشہور Taoist پہاڑ بھی قریب ہونے کی وجہ سے یہ شہر بڑا سیاحتی مرکز بن چکا ہے،اس پہاڑ سے Taoism شروع ہوا. پہاڑ 2000 میں یونیسکو عالمی ثقافتی ورثہ کی فہرست میں شامل ہو گیا۔
2011 اور 2016 کے کنگ فو پانڈا فلموں میں شامل ہوا۔
تاؤسٹ میتھالوجی میں، ننگ فینگزی کے ساتھ یہ ییلو شہنشاہ کے مطالعہ کی جگہ تھی بعد میں تاؤس مذہب کے مرکز کے طور پر یہ بہت سے مندروں کا میزبان بن گیا۔ پہاڑ کی 36 چوٹیاں ہیں۔ یہ ڈوجیانگ یان جائنٹ پانڈا سینٹر کا گھر ہے۔یہ پہاڑ 2008 میں زلزلے سے متاثر بھی ہوا تھا۔

Your Thoughts and Comments