Phata Huwa Dhol

Phata Huwa Dhol

پھٹا ہوا ڈھول

بہت سال گزرے کمپالا شہرکے نزدیک ایک گاؤں میں ایک شخص رہتا تھا جس کانام یوسفوتھا اور اس کی بیوی کانام لاڈی تھا۔ دونوں میاں بیوی کاایک ہی بیٹھا تھا جس کانام حنافی تھا۔ حنافی اپنے ماں باپ کی آنکھوں کاتارا تھا۔

احمد عدنان طارق:
بہت سال گزرے کمپالا شہرکے نزدیک ایک گاؤں میں ایک شخص رہتا تھا جس کانام یوسفوتھا اور اس کی بیوی کانام لاڈی تھا۔ دونوں میاں بیوی کاایک ہی بیٹھا تھا جس کانام حنافی تھا۔ حنافی اپنے ماں باپ کی آنکھوں کاتارا تھا۔

درحقیقت اس کے والدین اس کی ہرخواہش پوری کرنا اپنا فرض سمجھتے تھے اور وہ جوبھی کرنا چاہتا اسے کرنے سے نہ روکتے۔ جب منافی جوان ہوگیا تو شکار کاشوق اس کے رگ وپے میں سرائیت کاچکا تھا۔ ایک شام وہ اپنے والدین سے کہنے لگا کہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ رات کوجنگل میں شکار کرنے جارہا ہے تو اس کی ماں نے اسے کہا” بیٹا رات کو نہ جاؤ“ مجھے ستاروں نے بتایا ہے کہ آج کی رات منحوس ہے۔
اس کے والد یوسفو نے اسے سمجھایا” بیٹھا رات کو جنگل میں شکار بہت خطرناک ہوتا ہے تم ہمارے اکلوتے بیٹھے ہواور ہم اتنا بڑا خطرہ مول نہیں لے سکتے۔

(جاری ہے)

کہ خدانخوستہ جنگل میں تمہیں کوئی حادثہ پیش نہ آجائے۔ لیکن حنافی نے ماں باپ کی نصیحتوں پرکوئی کان نہ دھرا۔

آخر کار اس کی ضد کے آگے اس کی ماں اور باپ مجبور ہوگئے اور انہوں نے اسے جانے دیا۔
حنافی اپنے کئی دوستوں کے ہمراہ جنگل میں گیا۔ وہ سب تیرکمانوں‘ چاقوؤں اور بندوقوں سے لیس تھے۔ انہوں نے روشنی کیلئے اپنے ساتھ لالٹین بھی لے لی۔
جوجانور بھی ان لالٹینوں کی روشنی کی زد میں آیا انہوں نے اسے شکار کرلیا۔ اس رات انہوں نے دو ہرن اورچھ خرگوش شکار کئے۔ شکار کے بعد سب نے حنافی کو اس کاحصہ دیا۔ پھر جیسے ہی سارے شکاری اپنے اپنے گھروں کو واپس جانے کیلئے روانہ ہوئے تو آسمان پر بادل چھاگئے اور بجلی چمکنے لگی۔
آسمان پر بادلوں کے گرجنے اور بجلی کے پھر یکایک تیز آندھی چلنے لگی۔ جو اپنے ساتھ موسلاد ھاربارش بھی لائی۔ حنافی نے راستے میں دیکھا کہ ایک بہت بڑا کچھو اپنے گھر کے دروازے کے باہر بیٹھا ہوا ہے۔ حنافی نے اس سے درخواست کرتے ہوئے پوچھا” کیا میں اس بارش سے بچنے کیلئے کچھ دیر تمہارے گھر میں رک سکتا ہوں۔
توچالاک کچھوے کے منہ پر ایک عیارانہ مسکراہٹ چھا گئی۔ وہ کہنے لگا” ضرور تم کیوں نہیں رک سکتے“ تمہارا اپنا گھر ہے وہ دیکھو سامنے ایک بڑا ڈھول پڑا ہے اس میں گھس جاؤ تو بارش سے بچ جاؤ گے۔
ڈھول ایک طرف سے پھٹا ہوا تھا۔
حنافی نے اندر دیکھا تو وہ بالکل خشک تھا لہٰذا اس نے کچھوے کا شکریہ ادا کیا اور ڈھول میں گھس گیا۔ جیسے ہی حنافی پھٹے ہوئے ڈھول میں گھسا‘ کچھوے نے گھر سے مگر مچھ کی مضبوط جلد سے بنی ایک جھلی نکالی اور ڈھول کی پھٹی ہوئی سمیت پر ثبت کردی۔
اب ڈھول کی چاروں سمتیں مرمت ہوگئیں تو وہ ایک مکمل ڈھول بن گیا جسے بجایا جاسکتا تھا۔ اگلے دن وہ اپنے گاؤں میں مکھیا کے پاس اس کی جھونپڑی میں گیااور اس کے سامنے جھک کردوزانو ہوگیا اور مکھیا کو التجا کرنے لگا۔
جناب عالی کیا اچھا ہوا اگر آپ گاؤں میں ڈھول بجانے کا مقابلہ کروائیں کیونکہ میں اس میں حصہ لینا چاہتا ہوں۔
میراڈھول پھٹا ہوا تھا لہٰذا پچھلے وہ مقابلوں میں حصہ نہیں لے سکا اب میرا ڈھول ٹھیک ہوگیا ہے۔ یہ تجویزسن کر مکھیا بھی بہت خوش ہوا۔ اسے کہا” ڈھول بجانے کا مقابلہ۔ یہ تو بہت اچھی تجویز ہے۔ اچھی رونق لگے گی۔ ویسے بھی ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ گاؤں میں سب سے بہترین ڈھول کون بجاتا ہے۔
تین دن بعد ہی گاؤں کے سب لوگ مکھیا کی جھونپڑی والے محل کے سامنے اکٹھے ہوگئے۔ تمام ماہر ڈھولچی بھی اپنے اپنے فن کا مظاہرکرنے وہاں آگئے۔ وہ اپنے اپنے ڈھول ساتھ لیکر آئے تھے۔ یوسفو بھی ان لوگوں میں شامل تھا جو ڈھول بجانے کاتماشا دیکھنے مکھیا کی جھونپڑء کے سامنے آئے تھے۔

پھر جیسے ہی کچھوے کی باری آئی کہ وہ اپنے فن کامظاہرہ کرے اس نے جیسے ہی ڈھول بجانا شروع کیا حنافی ڈھول کے قیدی نے بھی ڈھول کے اندر گانا شروع کردیا۔ یوسفو نے اپنے بیٹے کی آواز شن لی تھی۔ گانے میں بہت جگہ حنافی نے اپنے نام اور اپنے باپ کے نام کو استعمال کیاتھا۔
پھر جب ڈھول بجانے کا مقابلہ ختم ہوا تومکھیا نے کچھوے کے فن کی بہت تعریف کی۔ اس نے کچھوے کوبتایا کہ گاؤں میں اس جیسا ڈھول کوئی نہیں بجاسکتا اور وہ سب بہترین فنکار ہے۔ تب یوسفو کچھوے کے پاس گیا اور اس کی تعریفیں کرتے ہوئے اسے کہنے لگا” کہ آپ میرے گھر تشریف لائیں۔
میں آپ کے اعزاز میں ایک ضیافت کا اہتمام کرنا چاہتا ہوں۔ کچھوے نے یوسفو کاشکریہ ادا کیا اور اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا۔ کچھوے کیلئے انتہائی عمدہ اور مزے کاکھانا پکایا گیا جواس نے مزے لیکرکھایا۔ پھر یوسفو نے لاڈی سے کہاکہ پانی کو ابلنے کیلئے آگ پر رکھ دے۔
کچھوے نے اتنازیادہ کھاناکھایا تھا کہ اسے سخت نیند آنے لگی۔اس نے ایک بچھی ہوئی چٹائی پر تانگیں پساریں اور وہیں میٹھی نیند سوگیا۔ یوسفونے اپنی بیوی کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا ” اس دشمن کا ہم سوپ بنائیں گے۔ پھر جلدی سے انہوں نے اسے ٹھایا اور اُبلے ہوئے پانی میں پھینک دیا۔
پھر یوسفو نے چلا کر اپنی بیوی سے کہا جلدی کرو ہمیں اپنے بیٹھے حنافی کی جان بچانی ہے۔ اس نے جلدی جلدی ڈھول پر چڑھی ہوئی جھلی کاٹی اور عین وقت پر جب حنافی بے حال تھا وہ اس کی جان بچانے میں کامیاب ہوہی گئے۔ اس دن کے بعد حنافی اپنے ماں باپ کا ہرحکم ماننے لگا اور اب ان کے گھر میں خوشیاں ہی خوشیاں تھیں۔

Your Thoughts and Comments