pyara pakistan hamara

Pyara Pakistan Hamara

پیارا پاکستان ہمارا

کلاس میں انہیں اسائنمنٹ دی گئی تھی جس کا موضوع تھا پیارا پاکستان ہمارا اس میں آدھ گھنٹے کی مووی اور کچھ کیمرے کی آنکھ سے بنی تصاویر کی بنانا تھیں۔دونوں بہن بھائیوں کا فیصلہ تھا کہ رات کو کھانے کے بعد بابا سے گاﺅں کی سیر اور پاکستانی ثقافت کی مووی بنانے کا ذکر ضرور کریں گے

ساجدہ لطیف
دانیال اور زینب دونوں بہن بھائی او۔لیول کے طالب علم تھے انہیں دسمبر کی چھٹیوں کا انتظار تھا کلاس میں انہیں اسائنمنٹ دی گئی تھی جس کا موضوع تھا پیارا پاکستان ہمارا اس میں آدھ گھنٹے کی مووی اور کچھ کیمرے کی آنکھ سے بنی تصاویر کی بنانا تھیں۔

دونوں بہن بھائیوں کا فیصلہ تھا کہ رات کو کھانے کے بعد بابا سے گاﺅں کی سیر اور پاکستانی ثقافت کی مووی بنانے کا ذکر ضرور کریں گے۔
شام کو بابا گھر آئے تو کھانے کے بعد ہم نے اپنی بات شروع کی انہوں نے خوشی کا اظہار کیا وہ اپنے بچوں کو ملک وملت کی خدمت کرتے دیکھنا چاہتے تھے۔
بابا نے کہا بیٹا میرا ایک پرانا ڈرائیور ہیجو گاﺅں رہتا ہے میں اس سے بات کرتا ہوں۔ڈرائیور سے بات کی تو اس نے کہا مجھے بہت خوشی ہوئی صاحب جی کہ آپ نے مجھے خدمت کا موقعہ دیا اس نے اپنے ہی گھر میں اپنے صاحب اور بچوں کے لئے رہائش کا انتظام کروایا۔

(جاری ہے)

رات کو بچے باپ کے آنے کا انتظار کرتے رہے۔بابا کے آنے پر کھانے کے بعد بابا نے بچوں سے کہابچوں 31 دسمبر کی صبح ہم گاﺅں کے لیے نکلیں گے بس اپنے بیگ ضروری تعلیمی سامان کے ساتھ تیار کرلو بابا شکریہ ہم نے سوچ رکھا ہے کہ 31 دسمبر 2017 کو غروب آفتاب کے کو الوداع کہنا ہے اور2018 کے سورج کی پہلی کرن دیکھنا ہے کہ 31 دسمبر کی صبح رحمت عین وقت پر رحمان صاحب کے گھر پہنچ گیا بچے پہلے سے ہی منتظر تھے ۔
گاڑی منزل کی جانب رواں دواں تھی۔راستے میں راہٹ آگیا بچوں نے رحمت انکل سے پوچھا انکل یہ کیا بیل کی عینک نما خوبصورت چمڑے پر پیتل کے موتی جڑے پہنا رکھا ہے۔
بیٹا جب ہم ہل چلاتے ہیں پانی کنویں سے نکالتے ہیں یہ لگام کے ساتھ گلے میں گھنٹیاں اور آنکھوں پہ عینک لگادیتے ہیں جس سے ایک تو وہ سیدھا چلتا ہے دوسرا وہ کہیں ڈرنہ جائے،آپ نے لاہور میں دیکھا ہوگا گھوڑوں گدھوں کو بھی یہ پہنایاجاتا ہے۔
عصر کی نما ز سے کچھ پہلے سب لوگ رحمت کے گھر موجود تھے۔رحمت کی بیوی نے ساگ مکی کی گرم گرم روٹیاں اور مکھن لسی پیش کی جسے بڑے شوق سے کھایا گیا۔
مغرب کے وقت رحمت نے بچوں سے کہا بچوں جلدی چلو مسجد میں اذان کا وقت ہوجائے گا ہم نے مسجد کی چھت پر اونچی جگہ سورج 31 دسمبر 2017 کے غروب ہونے کا نظارہ کرنا ہے دیکھتے ہی دیکھتے دیہاتی کھیتی باڑی کا سامان لے کر مغرب سے اپنے گھروں کو جانے لگے۔
پرندے اپنی اپنی پناہ گاہوں اور گھونسلوں کی جانب گروہوں کی شکل میں اور چڑیاں درختوں میں چھپ رہی تھیں۔پرندے سرخ سورج کے سامنے سے گزرتے پیارے دکھائی دئے رہے تھے دانیال اس خوبصورت نظارے کو کیمرہ میں قید کرنے لگا سورج دھیرے دھیرے غروب ہورہا تھا۔

31-12-2017 کا سورج سب کو الوداع کرتا اور دعائیں دیتا غروب ہوگیا مغرب کی نماز کے بعد مولانا جی نے پاکستان کے لئے ہزاروں دعائیں مانگیں اسئنمنٹ کی تیاری میں زینب اور دانیال کا مووی میں ہونا ضروری تھایہ ایک خاص شرط تھی بچوں کے لیے۔

اب انکل ہم نے صبح یکم جنوری 2018 کے سورج کو دیکھنا ہے جس کی پہلی کرن کے لیے کوئی میدانی جگہ تلاش کرنی ہے زینب نے کہا۔
ہاں بچو اس کے لیے میں تمہیں یہاں کی سب سے پرانی اور سب سے بڑی مسجد لے جاﺅں گا،صبح منہ اندھیرے بچے بابا جانی اور رحمت نے مسجد کا رخ کیا اذانوں کی آوازیں آنے لگی بچوں نے مسجد پہنچ کر اپنی مووی کی لائٹ آن کی مسجد کے حجروں میں کسی شاہکار نے مسجد کی دیواروں پر نعت مقبولﷺ حمد خانہ کعبہ مسجد نبوی کی چند تصاویر لگار کھی تھیں۔
دونوں بچوں نے مختلف زاویے سے تصویر کشی کی 1-1-18 کا سورج دھیرے دھیرے خوبصورت انداز میں بادلوں کی اوٹ سے نکل کر نیا سال مبارک کہہ رہا تھا۔سب ایک دوسرے کو مبارک باد دے رہے تھے نماز پڑھنے کے بعد باہر دیکھا تو دیہاتی کھیتی باڑی کا سامان لے کر کھیتوں کی جانب جارہے تھے رحمت نے بچوں بتایا یہ کھیتوں میں جو آدمی بازو پھیلائے کھڑا ہے یہ نہ بولتا ہے نہ ہلتا ہے نہ کھاتا ہے نہ پیتا ہے کیونکہ یہ لکڑی کے ڈنڈے سے مصنوعی آدمی بنایا گیا ہے تاکہ پرندے فصل کو تباہ نہ کرسکیں۔

خوب انکل جی۔“
اس کے بعد بچوں نے ریلوے سٹیشن جو بہت پرانا اور خوبصورت تھا جس میں(ککڑ انجن) جو کبھی پتھر کے کوئلوں سے چلتا تھا دیکھا۔سٹیشن کا پلیٹ فارم کچا تھا۔ریلوے لائن کے اردگرد کوئی باڑہ وغیرہ نہ تھا ہر کوئی آسانی سے گزرجاتا انکل یہ چاند گاڑی نما کیا چیز ہے؟جسے دو آدمی دھکیل رہے ہیں۔
دانیال نے پوچھا۔
بچو یہ لوہے کا ٹھیلا بنا ہے ریلوے لائن کی توڑ پھوڑ یا خرابی وغیرہ کو دھکیلنے کے لیے بنایا گیا ہے یعنی اس ریلوت لائن چیک کرتے ہیں رحمت نے بتایا۔
گاﺅں کے تاریخی مقامات دیکھنے کے بعد بچوں نے چند گھنٹے رحمت کے گھر آرام کیا اور لاہور اپنے گھر کی جانب چل پڑے۔
راستے میں کہیں کبڈی کا میچ کہیں گلی ڈنڈا بچے کھیل رہے اور کہیں بندرکلہ مشہور کھیل دیکھا۔دانیال جلدی جلدی سے تصویریں بناتا رہا۔
بچے گھر پہنچ کر رات بھر مووی دیکھتے رہے اور اسائنمنٹ کے لیے تصاویر بمعہ تفصیلاً تحریر کرتے رہے تیسرے دن جب سکول کھولا تو وہ دو روز بعد بچوں کی کلاس آرٹ کی نمائش تھی۔
دانیال اور زینب کی اسائنمنٹ کو سب سے بہت پسند کیا اور دونوں بچوں کو اول انعام اور نقدی دی گئی سکول میں زینب اور دانیال کی کامیابی پر پارٹی کا انتطام کیا گیا۔
یہ سارا کریڈٹ والدین اور استاد کو جاتا ہے بچوں کی ہمیشہ حوصلہ افزائی کرکے ان کی ہمت بڑھائیں تاکہ وہ ایک کامیاب انسان بن سکیں۔

Your Thoughts and Comments