ای لائبریریاں حکومتی نرغے میں!!

E Librariyaan Hakomati Nirghe Main

Ali Ahmad Latif علی احمد لطیف اتوار جون

E Librariyaan Hakomati Nirghe Main
کچھ واقعات ،سانحات اور بالخصوص خبریں   رکے ہوئے پانی   اور جمود ہوئی زندگی میں ارتعاش کی مانند یوں پھیلتی ہے کہ اس پر جتنی  زیادہ گفتگو اورتبصرے کیے جاتے  ہیں اتنی ہی  اس بات کے درست   ہونے کا پہلے گمان ہوتا ہے اور بعد ازاں اسکی سچائی کا یقین  ساہونے لگتا ہے،تمہیدی بیان کے مطابق ایسا ہی ایک واقعہ چند روز قبل پیش آیا کہ میڈیا  پر چلنے والی خبروں کے ذریعے معلوم ہوا کہ حکومت وقت اپنی ترجیحات میں شامل  نہ  کیے جانے والے گزشتہ حکومت کے ایک تعلیم دوست پراجیکٹ کو اسی ماہ سے بند  کرنے جارہی ہیں۔

جس  کے لیے باضابطہ طور پر اُس ادارے کے ملازمین کو 30 جون تک دفتر خالی کرنے کا حکم  نامہ بھی جاری کر دیا گیا ہے۔
 یہاں راقم  ڈیجیٹل لرننگ کے حوالے  سے صوبے میں قائم سب سے بڑے منصوبے  "پنجاب لرننگ پروگرام" کی بات کررہا ہے۔

(جاری ہے)

پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ  کے ماتحت جنوری 2018ء میں قائم ہونے والی ای لائبریریز  کو زمانہ جدیدیت اور وقت کی اہم ضرورت سمجھتے ہوئے  صوبےکے 20 اضلاع میں قائم   کیا گیا۔

    جس نے انتہائی کم مدت میں کتابوں سے بیزار  نوجوانوں کو اپنی طرف یوں کھینچا  کہ  ٹیکنالوجی  کی بدولت ان میں   کتب بینی کی عادت اور مطالعے کی روش  قائم ہوگئی۔
خاص بات یہ  ہوئی کہ ای لائبریری کی بدولت جہاں  پوری دنیا کی  لائبریریوں  سے رابطہ کرنے میں  آسانی ہوگئی وہی ادبی اور دیگر تقریبات وسیمینار منعقد کرکے  تمام مکتبہ فکر کی ذہنی  کج رویوں کو بھی دور کیا جانے لگا۔

اس معاملے میں  ای لائبریری لاہور  دیگر  اضلاع میں قائم  لائبریری سے سبقت لے گئی کہ جس نے  اپنے  باقاعدہ افتتاح سے قبل ہی  ایسی تقریبات منعقد کرکے لوگوں کو اس جگہ کی  اہمیت اور موجودہ زمانے کے  ڈیجیٹل دور کی ضرورت سے آشنا کروانا شروع کردیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ   انتہائی کم عرصے  میں طلباء کی ایک کثیر تعداد اس  جدید کتب گاہ سے مستفید ہوتے نظر آئے ۔

    اکثر و اقات تو یہاں ایک میلے کا سما ں نظر آنے لگا جو کہ بڑی حیرانگی کی بات  بھی تھی  کیونکہ کرکٹ سٹیڈیم،  ہاکی سٹیڈیم، فٹ بال سٹیدیم ، نشتر سپورٹس کمپلیکس کیساتھ ساتھ کرکٹ اکیڈمیوں کے سنگم میں قائم ای لائبریری لاہور میں   بھی اپنے ذوق و شوق کی تسکین کو پورا کرتے علم کے پیاسوں کو دیکھنا تعجب کی بات   تھی۔ جس کا سارا کریڈٹ ایہاں کے   منتظم اور چیف لائبریرین آصف بلال  صاحب کو   جتنا بھی دیا جائے  ہ کم  ہے ،جو ہمہ وقت اس جگہ کو مزید نکھارنے اور بہتر بنانے میں مصروف   رہتے   ہے۔


مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ  جس انتظامی سٹرکچر اور ہیومین پاور کے زیر سایہ ای لائبریری    عروج کی راہ پر گامزن تھی  یہ بات چند نا اہل لوگوں کے دل  پر گراں گزری ہے تبھی  لاہور سمیت تمام اضلاع میں قائم  ان مکتب گاہوں کےچیف لائبریرین سمیت تمام ملازمین کے کانٹریکٹ کی مدت ختم ہونے پر انھیں نوٹس جاری کردیے بلکہ اس سے بھی بڑی ستم ظریفی کی بات یہ ہوئی کہ  کورونا کے باعث اپنے گھروں میں مقید     تمام سٹاف  کوپنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے بذریعہ ای میل نوکریوں سے نکال دیا جبکہ  یہ خبریں بھی گردش کرنے لگی کہ ای لائبریریز کا انتظامی اختیار  پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے سرینڈر کر تے ہوئے لاہور سمیت پنجاب میں قائم 20 ای لائبریریز کی عمارتیں اور اثاثہ جات پنجاب سپورٹس بورڈ کے حوالے کرنے کا فیصلہ  کیا ہےیعنی اس پراجیکٹ کو بند کرنے کی مکمل تیاریاں کرلی گئیں۔

ڈیجیٹل  لائبریریاں  جو کہ  روایتی لائبریری کی نسبت زیادہ سودمند ثابت ہو رہی تھی   کو جب   اچانک سے  بند کرنے کے  حوالے سے آئے آناً فاناً احکامات    اوپر سے آئے تو  اہل کتاب اور اسکی اہمیت کو سمجھنے والوں نےاس آرڈر کو   اپنی ذاتی ہتک سمجھی اورپراجیکٹ کو جاری  رکھنے کے حوالے سے  ملکر  آواز بھی اٹھائی  جس پر ترجمان پنجاب آئی ٹی بورڈ کو باقاعدہ وضاحت دینی پڑی کہ پنجاب میں ای لائبریری پروگرام قطعی طور پر بند نہیں کیا جا رہا۔

مگر مقام افسوس یہ کہ اول روز سے اپنی محنت اور لگن سے ان ای لائبریریز کی اہمیت کو عوام الناس  کے ذہن و دماغ میں   بساتے ان تمام کنٹریکٹ ملازمیں کو فارغ کیے جار ہا ہے جو دوسال سے  اس پراجیکٹ کیساتھ  جڑے ہوئے ہیں۔ ان  ای لائبریریوں کا جو مقام  ہے وہ انھی لوگوں کے طفیل ہے اور موجود حالات کے مطابق  تو انکی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے مگر حیف صد حیف  ا س مشکل وقت میں ان کو بے یارو مددگار چھوڑا جارہا ہے کیونکہ کسی بھی پراجیکٹ کی کامیابی    میں اس کی پالیسیوں کا ہاتھ ہوتا ہے جو متواتر چلتی رہے تو مقرر کردہ ہدف کو  پانے میں آسانی رہتی ہے مگر یوں منجدھار میں ایسے اقدامات کرکے  پرانے لوگوں   کو نکال باہر کرنا کتاب دوستی کے زمرے میں نہیں آتا۔

حکومت وقت کو  معاملے کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے   چیف لائبریرین سمیت تما م دیگر سٹاف کے کنٹریکٹ کو بڑھا دینا چاہیے، تاکہ  آن لائن تعلیم کے حصول میں سرگرداں لوگ  بغیر کسی مشکل اور رکاوٹ   کے اس  وبائی دور میں آسانی سے ان سہولیات سے استفادہ کرسکے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments