بحیثیت شہری ملک کی بہتری میں ہمارا کردار

Ba Haisiyat Shehri Mulk Ki Behtari Mein Hamara Kirdar

حمیرا صدف جمعرات مئی

Ba Haisiyat Shehri Mulk Ki Behtari Mein Hamara Kirdar
12 مئی بروز منگل ایک نجی نیوز چینل پر کوٹ ادو کی بیوہ کو بلایا گیا۔تمام تر صورتحال جب اس سے پوچھی گئی تو اس کا موقف تھا کہ اس کا تعلق کوٹ ادو سے ہے اس کے پانچ بچے ہیں۔اس کے شوہر ''نذیر ''نے زہریلی دوائیں کھا کر خود کشی کر لی۔مزید سوالات کے بعد پتا چلا کہ اس کا شوہر ایک دیہاڑی دار مزدور تھا۔لاک ڈاون کی وجہ سے گھر میں خوراک ختم ہو چکی تھی اور مسلسل پانچ روز بھوکے رہنے کے بعد جب اس کے بچوں نے پانی سے روزہ افطار کیا تو نذیر نے دلبرداشتہ ہو کر زہریلی داوئیں کھالیں ۔

اس نیوز چینل کے اینکر پرسن کی جانب سے عہدداروں سے رابطہ کر کے اس بیوہ کی مدد کی یقین دہانی کروائی گئی۔
یہاں میرا سوال اس عوام سے ہے جو اپنے آپ کو پاکستان کا مہذب شہر ی کہتے ہیں!!!!! اگر واقعی شہر ی ہیں تو بحثیت شہری ہم پر بہت سارے فرائض نافذ ہیں جنہیں ہم بھول چکے ہیں۔

(جاری ہے)

!!!!تصویر کا ایک رخ یہ بھی ہے کہ ہمارے ہی معاشرے میں سفید پوش افراد صرف غیرت اور بدنامی کے ڈر سے دوسروں کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے اور پھر اس کا نتیجہ ہمیں خودکشی کی صورت میں نظر آتا ہے۔

کیا واقعی ہمارے ضمیر سو چکے ہیں۔ یا ضمیرکی آواز ہم سنتے نہیں ہیں!!ان لوگوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے جن کو اللہ نے ان کی استطاعت سے بڑھ کر دیا ہے لیکن وہ خرچ نہیں کرتے اور نجانے انسان یہ بات کیوں بھول جاتا ہے کہ اس دنیا سے صرف ایک کفن کے ٹکڑے کے علاوہ کچھ بھی نہیں لے کر جا سکتا۔ موجودہ صورتحال میں اگر اپنے پڑوسی کاہی خیال رکھنا شروع کر دیں تو کوئی بھی بھوکا نہیں سوئے گا۔

لیکن افسوس حرص و لالچ نے اتنا اندھا کر دیاہے کہ دوسروں کی تکلیف کا اندازہ ہی نہیں ہوتا۔ 
معاشرے کا ایک تلخ رخ یہ بھی ہے کہ اگر ہمارے پڑوس سے ایک لڑکی کی جینز شرٹ میں نکلتی ہے تو ہماری نظریں اس پر جمی ہوتی ہیں لیکن اگر اسی گھر میں کھانے کو کچھ نہ ہو تو ہم اندھے اور بہرے بن جاتے ہیں۔یاد رکھیں ہمسایوں کے فرائض کو بھول کر روز محشر اللہ کے حضور پیش بھی ہونا ہے۔

ملک اس وقت تک بہتر نہیں ہو سکتا جب تک عوام بہتری کے لئے کوشش نہ کرے۔۔لازمی نہیں ہے کہ ایک شخص بھوک سے مر رہا ہو تو اس کو خوراک مہیا کرنا حکومت کا فرض ہے !!!!! نہیں!!!! ہم بھی تو شہری ہیں یہ کام بھی کر سکتے ہیں۔۔
ابھی تو ہم پر صرف ایک وائرس کا حملہ ہوا تو ہم نے ماسک چھپا لیے۔خدا نہ کرے اگر قحط پڑ جائے تو اتنے لوگ بھوک سے نہیں مریں گے جتنا ان کو ان کی لالچ اور ہوس انہیں ماردے گی۔

حکومت اپنی سطح پر کام کر رہی ہے اور وہ کام اسی صورت بہتر ہوسکتا ہے جب عوام بھی ساتھ دے۔اس کی مثال ایسے لیجئے اگر ٹریفک وارڈن سڑک پر موجود نہ ہو تو کیا ہمارا فرض نہیں بنتا تھا گاڑیوں کو ایک لائن کی صورت میں چلائیں۔ یقین مانیے یہ کام ہم کر سکتے ہیں لیکن ہماری عادت ہوچکی ہے جب تک ہم پر سختی نہ کی جائے ہم باز نہیں آتے اور پھر حکومت کو لعن تان کر رہے ہوتے ہیں۔

۔ملک میں کرونا وائرس آیا تو ذمہ دار حکومت کو ٹھہرایا گیا جبکہ عوام اگر گھروں میں رہتی تو شر ح اموات کم ہوتی۔ کہیں پر کوڑا کرکٹ ہو تو اس کی ذمہ دار بھی حکومت!! جبکہ ہمارا مذہب صفائی کو نصف ایمان قرار دیتا ہے۔ تو سوچیے کہ خرابی ہم میں ہے یا حکومت میں!!!!!! یاد رکھیے 
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی ۔
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا!!!
ہر چیز بدل سکتی ہے اور وہ بدلاؤ تب ممکن ہے جب ہم خود کو بدلیں گے 
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments