وبائی حالات اور قانون سازی کا عمل

Wabai Halaat Aur Qanoon Sazi Ka Amal

خلفان احمد منگل مئی

Wabai Halaat Aur Qanoon Sazi Ka Amal
دنیا نے اس سے پہلے ایسے حالات کبھی نہ دیکھے ہونگے۔انسان وبائی مرض کی وجہ سے ایک دوسرے سے دور ہوگئے ہیں۔موجودہ وبائی حالات میں دنیا کے طاقتور جمہوریت کے دعویدار جمہوری نظام نے کوئی بنیادی اقدامات نہیں اٹھائے، یا پھر موجودہ حالات میں سماجی دوریوں پر مبنی طبی ہدایات نے پارلیمانی اجلاسوں،کارروائیوں کے انعقاد میں بہت بڑی خلل یا رکاوٹیں برپا کی ہیں۔


آئیں ایک نظر پاکستان کے آئین میں درج چند نکات، جو کہ اسمبلیوں کے اجلاسوں کے بارے میں ہیں،پر نظر ڈالتے ہیں، جس سے ہمارے منتخب اراکین اسمبلی کو یہ معلوم ہو گا، کہ وہ کس طرح سے موجودہ وبائی حالات میں بھی اپنی، پارلیمانی،جمہوری،آئینی ذمے داریوں کو نہ صرف احسن طریقے سے نبھا سکتے ہیں،بلکہ آئینی طور پر قابل قبول قانون سازی کے عمل کو جاری و ساری رکھ سکتے ہیں۔

(جاری ہے)

 اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور 1973 کے آرٹیکل54،55 اور 127 کافی دلچسپ ہیں، جو کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اجلاسوں کے بارے میں آئینی نکات کی وضاحت کرتے ہیں۔
1۔سپیکر قومی یا صوبائی اسمبلی اجلاس کو 14 دن کے اندر تب بولانے کا پابند ھے، جب کل ارکان اسمبلی کا ایک چو تھائی حصہ اجلاس کو بلانے کیلئے اپنی دستخطوں کے ساتھ تحریری درخواست دے۔

2۔ یا صدر/گورنر کی طرف سے بھی متعلقہ اسمبلیوں کا اجلاس آئین میں طے شدہ طریقہ کار کے مطابق بلایا جا سکتا ہے۔جسکی وضاحت بھی آرٹیکل 54 میں واضح طور پر درج ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
قانون سازی کا عمل!
آئین کے دفعہ 55 میں بہت واضح لکھا ہے، کہ قومی یا صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران موجود ارکان میں اکثریت کی رائے کی بنیاد پر کوئی قانون،یا قرارداد آسانی سے پاس تصور ہوگی،یعنی کوئی بھی اجلاس 1/4 ارکان کی درخواست پر تو بولایا جا سکتا ہے، لیکن قانون سازی کے عمل کے لیے ایک چوتھائی ارکان کا ہونا بھی ضروری نہیں ہے،مثال کے طور پر کسی بھی اجلاس میں اگر 5 ارکان اسمبلی کیوں نہ ہوں، اس میں 3 ارکان اسمبلی کسی بل،قرارداد کی حق میں یا مخالفت میں اگر ووٹ دیں گے،تو قانون سازی آئینی تصور ہوگی، جب تک جاری اجلاس میں کورم کی کمی کی نشاندہی نہ کی گئی ہو۔

ایک دلچسپ امر اور بھی ہے،اگر اسی دوران کسی بل، یا قرارداد پر اجلاس میں موجود اراکین اسمبلی کی ووٹ کی تعداد برابر ہو، تو ایسی صورت میں متعلقہ سپیکر کو بھی کسی بل یا قرارداد کے حق میں یا مخالفت میں ووٹ ڈالنے کا اختیار ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 عمومی پارلیمانی روایات!
 کوئی بھی سپیکر اجلاس میں اپنی مرضی کے ممبران کو نہ تو بلا سکتا اور نہ منع کر سکتا ہے، ہر ایک منتخب رکن اسمبلی اجلاس میں آسکتا ہے،جب تک آئینی یا متعلقہ اسمبلیوں کے رولز و ضوابط سے انحراف نہ کیا ہو، یا خلاف ورزی کا مرتکب نہ پایا گیا ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
موجودہ وبائی حالات میں کم سے کم ممبران اسمبلی کے سا تھ بھی قانون سازی کا عمل بروئے کار لایا جا سکتا ہے،لیکن ایسی قانون سازی کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کے لے سپیکر اور پارلیمانی راہنماؤں کا کردار بہت اہم ہے،وقت آگیا ہے کہ موجودہ وبائی و ایمرجنسی جسے حالات میں عوام،صوبے اور ملک پاکستان کے مفاد میں بہترین قانون سازی کا عمل اتفاق رائے سے جاری ہو۔تاکہ اچھی قانون سازی کے ذریعے عوام، ملکی اداروں،معیشت کے استحکام کے لیے ٹھوس اور بنیادی کام کیا جاسکے۔ 
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments