جدید دور اور کمزور رشتے

Jadeed Door Aur Kamzor Rishte

Malik Usman Zaheer ملک عثمان ظہیر جمعہ دسمبر

Jadeed Door Aur Kamzor Rishte
دور جدید کی جدید ٹیکنالوجی نے سہولتیں تو دیں لیکن ہمیں اپنوں سے دور کردیا۔ اکیسویں صد ی جہاں رشتوں سے زیادہ گیجٹس کو اہمیت دی جارہی ہے جس کے منفی اثرات کی بدولت ہم اپنے ہی کھوبیٹھے ہیں۔ جیسے جیسے ٹیکنالوجی آگے جارہی ہیں رشتوں میں دراڑیں بھی بڑھتی جارہی ہیں۔موبائل کے ذریعے دوردراز بیٹھے رشتہ داروں دوست احباب سے رابطے تو آسان ہوگئے لیکن ایک ہی گھر میں ایک ہی چھت کے نیچے بیٹھے ماں باپ بہن بھائی اور میاں بیوی دور ہوگئے۔


کبھی ایک ٹی وی کے گرد گھر کے سب چھوٹے بڑے بیٹھ کر لطف اندوز ہوتے تھے لیکن آج ہر فرد اپنے اپنے ٹی وی پر اپنی دنیا میں مگن ہے جس کو اپنے اردگرد میں موجود افراد تو نظر نہیں آتے لیکن اپنے موبائل یا لیپ ٹاپ میں میلوں دور بیٹھے لوگوں اور سوشل میڈیا کے دوستوں کی فکر کھائے جارہی ہے کہ کہیں ان کا کوئی میسیج یا سٹیٹس رہ نہ جائے۔

(جاری ہے)

نفسا نفسی کے دور میں اگر تہوار کے موقع پر بھائی بہن کزن وغیر ہ اکٹھے ہوبھی جائیں تو ہر کوئی آپس میں کسی بات کی بجائے اپنے اپنے موبائل پر ہی مصروف رہتا ہے۔

ایک ہی صوفے پر تین مختلف لوگ بیٹھے ہیں تو اپنے اردگرد سے بے خبر تینوں اپنے موبائل میں چیٹنگ یا گیم کھیلنے میں مصروف نظر آتے ہیں۔ ہفتہ وار یا ماہانہ ملاقاتیں اب اپنا وجود کھو چکی ہیں ۔واٹس ایپ،فیس بک،ٹویٹر،ٹک ٹاک جیسی ایپلیکیشنر کے ذریعے ہر منٹ بعد کسی نہ کسی آن لائن فرینڈ کا ایس ایم ایس پڑھنا لازم ہوچکا ہے۔ ہم اپنے اہلخانہ اور رشتہ داروں سے بات کرنے کی بجائے ان کے سٹیٹس سے ہی ان کی کیفیت کا اندازہ لگا لیتے ہیں۔

 
جدید دور کی بڑھتی سہولیات کا استعمال ہمیں بہت جدت دے چکا لیکن اس جدت کے بدلے ہمیں اپنوں سے بیگانہ کرچکا ہے کیا ہم اس سہولت پسند معاشرے میں رہ کر اپنے دوست احباب اور رشتہ داروں سے دوری کو کب تک افورڈ کرتے رہیں گے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال ہماری ضرورت کے مطابق ہو ناکہ ہم ٹیکنالوجی کے استعمال میں اپنے ہی کھودیں۔

 
سوشل میڈیا ایک ایسا ہتھیار بن گیا جس نے زندہ شخص سے زندگی چھین لی ہے کاش یہ دور نہ ہوتا، کاش ہمارے رشتوں میں داڑیں نہ پڑتی، کاش ہمارے رشتہ کمزور نہ ہوتے۔ کچھ وقت پہلے ہوتا تو یہ تھا کہ سب گھر والے عموما رات کو اکھٹے بیٹھ کر نہ صرف کھانا کھاتے تھے بلکہ ایک دوسرے سے بات چیت کراپنے مسائل سناتے اور پھر انکا حل تلاش کیا جاتا تھا۔ لیکن اب ویسا نہیں رہا اور انھیں مسائل کی وجہ سے انسان مشکل، پریشانی اور ڈیپریشن کا شکار رہتا ہے۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments