عورت کی تعلیم اور سماج

Aurat Ki Taleem Aur Samaj

پلوشہ لطیف منگل مئی

Aurat Ki Taleem Aur Samaj
ہائے بیچاری! اتنی بڑی ہو گئی ہے مگر اب بھی کنواری ہے۔ہائے طیبہ کو دیکھا ہے آس کی ہم عمر ہے اور خیر سے اپنا گھربار ہے اس کا اور یہ ابھی تک ایسی ہی ماں باپ کے در پہ بیٹھی ہوءٌ ہے۔ہائے کتنی بد قسمت ہے۔اب تو اس کی عمر گزر جائے گی اور یہ ایسی ہی بیٹھی رہ جائے گی۔اتنا پڑھ کے کیا کرنا ہے جب جاکے چولہا ہانڈی ہی کرنی ہے۔اوربھی بہت سارے ایسے ہی فقرے جو اُسے سننے کو ملتے تھے۔


سارہ جو بہت سارے خواب آنکھوں میں سجائے بیٹھی تھی۔بچپن سے لیکر لڑکپن اور لڑکپن سے جوانی تک عمر کے ان حصوں میں اس نے ڈاکٹر بننے کا ہی تو سوچا تھا۔اپنے اس خواب کو پورا کرنے کیلئے بہت محنت کی تھی۔اس نے اپنے خاندان کا نام روشن کیا تھا۔وہ پہلی لڑکی تھی جو اعلی تعلیم حاصل کر رہی تھی۔ اب جبکہ اس کا یہ خواب انتھک محنت کے بعد پورا ہونے جارہا تھا تو وہ خوش ہونے کی بجائے مایوسی میں گھیرنے لگی تھی۔

(جاری ہے)

کیونکہ اب اس پر بہت سے حقائق کھلنے لگے تھے۔
اب مسئلہ یہ تھا کہ اگر شادی کے بعد اسے جاب کرنے نہ دیا گیا تو یہ تعلیم ضایع ہو جائے گی۔یہ صرف سارہ کی کہانی نہیں ہے بلکہ ایشیاء ترقیاتی بینک کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں 25 فیصد لڑکیاں گریجویٹ ہونے کے بعد کسی پیشے سے وابستہ نہیں ہوتی ہیں۔خواہ وہ کوئی بھی شعبہ ہو اس حقیقت کو نہیں جھٹلایا جاسکتا کہ زندگی کے ہر موڑ پہ ہمیں مردوں کے ساتھ ساتھ عورتوں کی بھی تعلیم کی ضرورت پڑھتی ہے۔

یہ ضرورت ہسپتال میں بھی ہو سکتی ہے تعلیمی ادارے بھی ہو سکتی ہیں اور بہت سارے اور ادارے ہیں جہاں عورت کی تعلیم کے بغیر ترقی کرنا ممکن نہیں ہے۔اتنا دور جانے کی کیا ضرورت ہے اگر ہم دیکھیں تو ماں کی گود کو بچے کی پہلی درسگاہ کہا گیا ہے اور ہم جانتے ہیں کہ ایک بچے کی ابتداء تربیت کتنی ضروری ہوتی ہے۔ ایک عورت اگر باشعور ہوگی تو وہ ایک توانا خاندان کو جنم دے گی جو کہ ایک باشعور اور اخلاقی لحاظ سے صحت مند معاشرے کی ضمانت دے سکتی ہے۔

آج کے دور میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ ہمارے معاشرے کے کچھ لوگ جس میں پڑھے لکھے بھی شامل ہیں عورت کی اعلی تعلیم کے خلاف ہیں۔ اس دور میں جہاں مرد اور عورت برابری کی سطح پر ہیں سراسر بے وقوفی ہے۔وہ عورت کی نوکری کرنے کو غیرت کا مسئلہ سمجھتے ہیں۔وہ یہ نہیں دیکھتے کہ لڑکی پہلے تو ماں باپ اور بھائی پہ بوجھ ہوتی ہے اور اس کے بعد شوہر پر۔

لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر بیٹی کو امیر گھر میں بیا دیا تو ہمیشہ خوش رہے گی مگر حالات ہمیشہ ایک سے نہیں رہتے۔کسی پر بھی کبھی بھی برے حالات آسکتے ہیں۔خدانحواستہ اگر کسی بیٹی پر برے حالات آتے ہیں تو وہ اپنی تعلیم کو استعمال میں لا کر عزت کے حامل نوکری کرسکتی ہے۔
ضروری تو نہیں کہ تعلیم نوکری کے حصول کے لئے کی جائے۔تعلیم شعور اور ذہنی نشوونما کیلئے بھی حاصل کی جاسکتی ہے خواہ دینی ہو یا دنیاوی۔

مرد اور عورت دونوں کیلئے اسلام میں علم حاصل کرنا فرض کیا گیا ہے۔آج بھی اگر ہم ترقی یافتہ ممالک کا تجزیہ کریں تو ہم اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ وہاں پر مرد اور عورت کی تعلیم میں کوئی تفریق نہیں ہے۔اور پاکستان جہاں عورتوں کی آبادی مردوں کے مقابلے میں زیادہ ہے وہاں تو عورت کی تعلیم ملکی ترقی میں ریڑھ کی ہڈی کی مثال رکھتا ہے۔بطور والد،بھائی ہمیں بیٹی، بہن کو اپنے مان اور تحفظ کے ساتھ اعلی تعلیم دلوانی چاہیے۔اگر اعلی تعلیم ممکن نہ بھی ہو تو کم ازکم اتنی تعلیم ضرور دیں کہ انہیں زندگی کے کسی موڑ پہ رہنمائی کی ضرورت پڑے تو وہ غلط راستے کا چناؤ نہ کریں۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments