زہر کا پیالہ

Zeher Ka Pyala

رابعہ فاطمہ بدھ نومبر

Zeher Ka Pyala
تاریخ عالم کے صفحات میں ایک نام ایسا بھی ہے جس سے سب لوگ واقف ہیں ۔۔۔ اور وہ نام سقراط ہے۔۔۔ اس کی عقل و دانائی مثالیں آج بھی دی جاتی ہیں ہیں ۔۔۔ لیکن تاریخ جب اس کی موت کا احوال ذکر کرتی ہے تو لگتا ہے کہ وہ ایک ناکام انسان تھا جس نے اپنی زندگی کو اپنے ہاتھوں سے ختم کر دیا۔۔۔لیکن ایسا نہیں تھا بلکہ وہ ایک مضبوط انسان تھا
اس نے سچائی پر رہتے ہوئے اس کو ثابت نہ کرسکنے کی وجہ سے زہر کا پیا لہ پیا۔

۔۔ میں اپنے اردگرد اور تھوڑے دنوں پہلے ہونے والے واقعات کا جائزہ لے رہی تھی تو سمجھ آئی کہ آئے دن دانشمندوں کی بڑھتی ہوئی خاموشی نے سقراط کو اندر ہی اندر ختم کر دیا ہوگا۔۔۔ یا پھر مدبر لوگوں کے سلے ہوئے ہونٹوں نے اس کی روح کو زخمی کر دیا ہوگا۔

(جاری ہے)

۔یا پھر سچائی پوری آب وتاب سے روشن ہونے کے باوجود اپنا لوہا نہ منوا سکی ہوگی۔۔۔ یا پھر ظلم اپنی تمام تر ظلمتوں کے ساتھ جیت گیا ہوگا۔

۔۔ معاشرہ ۔۔ ہمیں وہاں چپ رہنے کو بولتا ہے جہاں نولنا چاہیے۔۔۔ معاشرہ ہمیں ہر اس ظلم کے خلاف آواز اٹھانے سے منع کرتا ہے جو بعد میں آگے جا کر تباہی و بربادی کا سبب بنتا ہے۔۔۔ معاشرہ کوئی دوسری دنیا کی مخلوق نہیں ہے ہم انسانوں سے قائم ہے۔۔۔ہم ہی اسکو سنوارتے اور بگاڑتے ہیں۔۔۔ ہماری ذات سے ہی اس کی اچھائی اور برائی وابستہ ہوتی ہے ۔

۔۔ لہذا صبر کی تلقین وہاں کیجیے جہاں واقعی صبر کا اجر ملے۔۔۔ صبر وہاں کارگر ثابت نہیں ہوتا جو معاملات آگے جاکر معاشرے کا ناسور بنتے ہیں ۔۔ خاموش وہاں رہنے کا کہیں جہاں پر فتنہ و فساد رکنے کا امکان ہو ۔۔۔ وہاں خاموش رہنے کے لیے نہ کہیں جہاں فتنہ وفساد بعد کو اپنے عروج پر پہنچ جائے اور ظالم دندناتا پھرے۔۔۔
سقراط نے تو زہر کا پیالہ پی لیا،، اور جسمانی موت مر گیا ۔ لیکن ہم وہ زہر پی رہے ہیں جس سے ہم روحانی موت مر رہے ہیں ۔۔ہمارا ضمیر مر گیا ہماری روح مر گئی ۔۔۔ ہم مر گئے بس لاشیں زندہ ہیں۔۔۔
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments