صرف ڈرو نہیں احتیاط بھی تو کرو نا!

Sirf Daro Nahi Ehtiyat Bhi Karo Na

صدف ایوب جمعرات مارچ

Sirf Daro Nahi Ehtiyat Bhi Karo Na
آج کل سب کچھ بہت عجیب سا ہے پھر چاہے وہ موسم ہو یا حالات۔ میرے کمرے کی مغربی سمت کھلنے والی کھڑکی کافی دن سے بند ہے، وجہ یہ ہے کہ دن کے أوقات میں کھڑکی سے گرم ہوا آتی ہے اور سورج غروب ہوتے ہی مچھروں کی فوج۔ اس کھڑکی کے نہ کھلنے کی تیسری وجہ بھی ہے اور وہ ہے ہوا میں پھیلے وائرس کا خوف۔
پچھلے کئی روز سے ٹی وی کھولیں یا موبائل اٹھائیں سامنے آتی ہیں صرف اور صرف کرونا وائرس کی خبریں۔

سڑکیں اور گلیاں اب بالکل خالی ہوچکی ہیں لیکن واٹس ایپ کے وہ گروپ جو کئی کئی ماہ  ویران رہا کرتے تھے ان میں پیغامات کا تانتا بندھا ہوا ہے۔ حالات کی سنگینی کا اندازہ لگانے کے لیے صرف یہ معلومات ہی کافی ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کا پہلا کیس چھبیس فروری کو سامنے آیا تھا اور صرف ایک ماہ کے دوران وطن عزیز میں گیارہ سو سے زائد افراد کرونا زدہ ہوچکے ہیں جن میں سے آٹھ افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

(جاری ہے)


 
عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کرونا وائرس کو عالمی وبا قرار دیے ہوئے پندرہ دن سے زائد ہوچکے ہیں لیکن اگر اب بھی آپ اس مہلک وائرس کی آمد، پھیلاو، اور سنگینی کے متعلق زیادہ کچھ نہیں جانتے تو مختصر تعارف پیش ہے۔
زیادہ دور نہیں صرف تین ماہ پرانی بات ہے جب چین نے عالمی ادارہ صحت کو اپنے گیارہ ملین آبادی والے ساحلی شہر ووہان میں سامنے آنے والے غیر معمولی نمونیا کے کیسز سے آگاہ کیا۔


یہ کیسز غیر معمولی اس لیے تھے کیونکہ واضح نہیں ہوپارہا تھا کہ کونسا وائرس ان کا موجب ثابت ہورہا ہے۔
سات جنوری کو عالمی ادارہ صحت کے حکام نے اس کی پہچان
2019-nCoV
کے نام سے کی اور اس کا تعلق کرونا وائرس کی فیملی سے بتایا گیا۔ واضح رہے کہ عام نزلہ زکام کا باعث بننے والا وائرس بھی کرونا فیملی کا حصہ ہے اور اس فیملی کے تمام وائرس متاثرہ شخص کے کھانسنے اور چھینکنے سے دیگر صحت مند افراد کو بیمار کرتے ہیں۔


نئے سال کے ساتھ قدم رنجہ فرمانے والا یہ نیا وائرس تیزی سے چین میں پھیلتا چلا گیا اور گیارہ جنوری کو اس میں مبتلا پہلا شخص زندگی کی بازی ہار گیا۔
اس کے بعد سے یہ سلسلہ اب تک تھم نہ سکا ہے۔ تیرہ جنوری کو ووہان سے تھائی لینڈ جانے والی خاتون اس وائرس کو تھائی لینڈ لے گئیں، سولہ جنوری کو جاپان میں اس مرض کا پہلا شکار سامنے آیا، اس شخص نے بھی ووہان کا سفر کیا تھا اور پھر امریکا، نیپال، فرانس، آسٹریلیا، ملائشیا، سنگاپور، ویتنام، تائیوان ایک ایک کرکے ان تمام ممالک میں بھی کرونا کے مثبت کیس سامنے آتے چلے گئے۔


تیس جنوری کو عالمی ادارہ صحت کی جانب سے کرونا وائرس کو گلوبل ایمرجنسی قرار دے دے گیا۔ کیونکہ نہ صرف ایک ماہ میں یہ وائرس چین کے تمام اکتیس صوبوں میں پھیل کر ساڑھے سات ہزار سے زائد افراد کو متاثر کرچکا تھا اور ایک سو ستر افراد کی ہلاکت کا سبب بھی بن چکا تھا بلکہ تیزی سے دیگر یورپی ممالک میں بھی اس کے متاثرین سامنے آتے جارہے تھے۔


 
اس مہلک اور تیزی سے پھیلتے وائرس کو
COVID-19
کا نام گیارہ فروری کو دیا گیا۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق اس نام میں حروف سی او کرونا، وی آئی وائرس اور حرف ڈی
disease
کا مخفف ہے جبکہ انیس اس وائرس کے پہلی دفعہ منظرعام پر آنے کا سال ہے۔
وسط فروری میں ایشیائی اور یورپی ممالک کے بعد براعظم افریقا کا پہلا کرونا کیس مصر میں سامنے آیا۔


چھبیس فروری کو جب ایران سے پاکستان آنے والے بائیس سالہ نوجوان میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی اس وقت تک پاکستان کے بقیہ تینوں ہمسایہ ممالک بھارت، أفغانستان اور ایران میں کرونا کے متعدد کیس سامنے آچکے تھے۔ جبکہ دنیا بھر میں یہ وائرس اسی ہزار افراد کو متاثر اور اٹھائیس سو کے قریب اموات کا سبب بن چکا تھا۔
ورلڈو میٹرز کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق کرونا کے سب سے زیادہ مریض چین میں سامنے آئے تاہم اس مہلک وائرس کے سبب سب سے زیادہ ہلاکتیں اٹلی اور اسپین میں ہوچکی ہیں، ہلاکتوں کے اعتبار سے چین تیسرے نمبر پر اور ایران اور فرانس بالترتیب چوتھے اور پانچویں نمبر پر ہیں۔


خیال رہے کہ دو مارچ کو سعودیہ عرب میں کرونا کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد آٹھ مارچ سے نہ صرف بیت اللہ کے گرد مطاف زائرین سے خالی ہے، عمرے بند کیے جاچکے ہیں بلکہ موجودہ حالات میں ادائیگیء حج پر بھی خدشات منڈلاتے نظر آتے ہیں۔
عالمی ادارہ صحت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق اس وقت دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد چار لاکھ چودہ ہزار سے تجاوز کرچکی ہے جبکہ ہلاک افراد کی تعداد ساڑھے اٹھارہ ہزار کے قریب ہے۔


اٹلی میں سینکڑوں کی تعداد میں ہونے والی روزانہ ہلاکتوں کی وجہ سے یورپ اس مہلک وائرس کا ایپی سینٹر بنا ہوا ہے۔
کھانسی اور چھینک کے ذریعے فضا میں داخل ہوکر صحت مند افراد کو متاثر کرنے والے اس مرض کے پھیلاو کو سمجھنے کا سیدھا سادہ سا فارمولا یہ ہے کہ کرونا سے متاثرہ شخص میں دس سے چودہ دن تک کوئی علامات ظاہر نہیں ہوتیں یوں وہ عام لوگوں میں گھل مل کر روزانہ تقریبا دس لوگوں میں وائرس منتقل کرسکتا ہے یہ دس لوگ بھی جب تک کرونا کی علامات ظاہر کریں گے اس وقت تک سو لوگوں کو متاثر کرچکے ہوں گے غرض کہ سو سے ہزار اور ہزار سے دس ہزار یہ سلسلہ یونہی دراز ہوسکتا ہے۔

اسی باعث آپ کا صحت مند ہوتے ہوئے بھی گھر میں مقید رہنا انتہائی ضروری ہوجاتا ہے۔
گو وطن عزیز میں وائرس کو لے کر افراتفری تو ضرورت سے زیادہ پھیل چکی ہے تاہم اب بھی احتیاط کے نام پر سنجیدگی خاص نظر نہیں آتی۔ پھر چاہے سکھر کے قرنطینہ سے لوگوں کے بھاگنے کی خبریں ہوں یا بیرون ممالک کا سفر طے کرکے آنے والے بااثر افراد کی غیرمحتاط سماجی سرگرمیاں۔


 حکومت اس حوالے سے کیا کررہی ہے اور کیا نہیں سے قطع نظر سماجی محدودیت اور غیر ضروری میل جول وقت کی اہم ضرورت ہے لیکن افسوس ناک صورت حال یہ ہے کہ اب بھی متعدد لوگ نہ صرف خود گھر نہیں بیٹھ رہے بلکہ اپنے چھوٹے چھوٹے بچوں کے لیے بھی کسی احتیاط کو ضروری نہیں سمجھ رہے۔ عوام کی جانب سے ڈبل سواری پر پابندی کے احکامات پر کان نہیں دھرا جارہا، کئی ہیں جو راشن سے اپنی ٹرالیاں بھرنے اور ڈپارٹمینٹل اسٹورز کے شیلف خالی کر کے مطمئن ہیں تو کئی مقامات پر راشن کی تقسیم اس قدر پرہجوم صورتحال میں کی جارہی ہے کہ ضرورتمند کا پیٹ تو بھرجائے مگر صحت داو پر لگی نظر آئے۔


معذرت کے ساتھ باہر نہ نکلنے کے اعلان کے بعد جو افراد یہ دیکھنے باہر نکل رہے ہیں کہ کوئی باہر تو نہیں نکلا ہوا اس نازک وقت میں اپنے پاوں پر کلہاڑی ماررہے ہیں۔
اس بات سے کوئی انکار نہیں کہ سب کچھ بند کیے جانے کے نتیجے میں آبادی کا بڑا حصہ متاثر ہوگا، معاشی نقصان کا سامنا کرنا پڑے گا لیکن اس وقت دنیا کے بڑے بڑے ممالک اربوں ڈالر معاشی نقصان کا سامنا کررہے ہیں جو اربوں افراد کی جان بچانے کے لیےنہایت ضروری ہے۔


لاک ڈاون کو غیر ضروری سمجھنے والی عوام سے دست بستہ درخواست ہے کہ سب کچھ کھلا رہنے کی صورت میں خدانخواستہ وائرس بےقابو ہوگیا تو اٹلی جیسے جانی نقصان کا ذمہ دار کون ہوگا؟
یہ درست ہے کہ دیہاڑی دار طبقے کے لیے گھر بیٹھنا بہت مشکل ہے لیکن اگر وائرس پھیل جاتا ہے تو اس طبقے کے لیے علاج کرانا اس سے بھی زیادہ مشکل ہوجائے گا۔
احتیاط علاج سے بہتر اور وقت کی اہم ترین ضرورت ہے کیونکہ عالمی ادارہ صحت اور دنیا بھر کے محققین یہ بتا چکے ہیں کہ مرض ہوجانے کے بعد اس کا علاج فی الوقت دستیاب نہیں۔

حالت زیادہ بگڑ جائے تو مریض کو وینٹی لیٹر درکار ہوتا ہے اور ہمارے ملک میں اس جان بچانے والی مشین کی تعداد آبادی کے حساب سے آٹے میں نمک برابر ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ ماہرین صحت موسمی الرجی اور زکام کے لیے ہسپتالوں کا رخ کرنے والے افراد کو بھی تنبیہ کررہے ہیں کہ وہ گھر پر ہی آرام کرکے رو بہ صحت ہوں، اگر آپ کے کسی دوست یا جاننے والے کو کھانسی یا چھینکیں چل رہی ہوں تو اس سے کم از کم تین فٹ کا فاصلہ قائم رکھیں اور اپنے منہ، ناک اور آنکھوں کو چھونے سے پہلے ہاتھ بیس سیکنڈز تک صابن سے ضرور دھویں۔

مصافحہ کرنے اور گلے ملنے سے اجتناب کریں اور زیادہ رش والے مقامات پر جانے سے گریز کریں۔ خیال رہے کہ یہ وائرس کرنسی نوٹ، دروازے کے لاکس، اے ٹی ایم مشینز، ڈور بیلز، سیڑھیوں کے ساتھ موجود گرلز جیسی چیزوں کو چھونے سے بھی آپ تک پہنچ سکتا ہے اور سوشل ڈسٹینسگ کے سوا اس سے بچنے کا کوئی چارہ نہیں۔
یاد رکھیں کہ جان ہے تو جہان ہے! ہاتھ دھویں اس سے پہلے کہ آپ کو جان سے ہاتھ دھونے پڑجائیں، گھر پر رہیں احتیاط کریں!
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments