بزدار ہے اصلی تبدیلی کا نشان

Buzdar Hai Asli Tabdeeli Ka Nishaan

وقار نیازی پیر دسمبر

Buzdar Hai Asli Tabdeeli Ka Nishaan
جہاں پاکستان کا سب سے اہم صوبہ پنجاب ہے وہیں پاکستان کی سیاست کا سب سے اہم محور بھی  پنجاب ہی ہے۔ اس صوبے کیلئے سیاست دان اپنی پوری تگ و دو کرتے ہیں کہ کسی طرح اس صوبے پر اپنی کمان سنبھال لی جائے جو اس تگ و دو میں کامیاب ہوجائے وہ تقریبا اس ملک کا آدھا حکمران بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی سیاست پر نظر دوڑائی جائے تو پنجاب کی سیاست کیلئے انھوں نے اپنا پورا زور آزمایا۔

پہلے میاں نواز شریف صوبے کے حکمران بنے تو پھر مسلسل دو بار ان کے چھوٹے بھائی نے اس صوبے کے اقتدار پر قبضہ جمائے رکھا۔ اب کافی عرصے بعد ایک نئی پارٹی کی پنجاب میں حکومت آئی ہے، اس بار ایک نئی پارٹی تحریک انصاف، اتنے بڑے صوبے کو چلانے کیلئے بھی ایک نئے سیاست دان کو جس کے پاس پہلے نہ تو کوئی وزارت تھی اور نہ ہی کسی بیوروکریسی کے عہدے پر براجمان رہا بلکہ ایک ایم پی اے کو اس صوبے کا سربراہ بنا دیا گیا جس کی آبادی پاکستان کے تمام صوبوں سے زیادہ ہے۔

(جاری ہے)


بزدار نے  اگست 2018 میں پنجاب کا اقتدار سنبھالا ہی تھا کہ ان پر انگلیاں اٹھنا شروع ہوگئیں، ایک تو تاریخ میں پہلی بار جنوبی پنجاب سے یہ شخص وزیراعلیٰ منتخب ہوئے اور وہ بھی ایک پسماندہ علاقے تونسہ کے علاقےسے  جہاں نہ تو پینے کا صاف پانی ملتا ہے اور نہ ہی بجلی کی سہولیات ہیں۔ شائد کچھ لوگوں سے یہ بات ہضم نہیں ہوئی کہ اس بار تو وزیراعلیٰ صاحب غریب علاقے سے ہیں اور ان کی تمام تر توجہ غریب علاقوں کی طرف ہوگی۔

میڈیا پر شور مچایا گیا کہ بزدار ایک پسماندہ علاقے سے ہیں یہ کس طرح اتنے بڑے صوبے کا انتظام کو سنبھالیں گے۔ اس وقت میرے ذہن میں بھی آتا تھا کہ بزدار سائیں کس طرح اس صوبے کے بڑے بڑے بیوروکریٹ اور کرپٹ مافیا کا مقابہ کریں گے۔ چونکہ یہ شخصیت ایسی تھی کہ وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالنے سے پہلے ان کے نام سے کوئی آشنا نہیں تھا۔ میڈیا، سیاست دانوں اور عوام کی طرف سے جب یہ سوالات اٹھنے لگے تو اس دوران ملک کے وزیراعظم عمران خان نے ملک کے باسیوں کو عثمان بزدار کے حوالے سے اعتماد میں لیا اور کہا کہ یہ میری ٹیم کا وسیم اکرم پلس ہے، یعنی یہ خان کی ٹیم میں وسیم اکرم سے بھی بیسٹ کھیلے گا، جس سے عوام کوخاص طور پر پی ٹی آئی کو ووٹرز کو یقین آگیا کہ بزدار میں کچھ تو ایسا ہے جس کی بنا پر خان نے اسے ٹیم کا حصہ بنایا ہے۔

وقت گزرتا گیا اور عوام ایک بار پھر عمران خان کے اس فیصلے کے خلاف بولنے لگے اور تو اور میری پی ٹی آئی کے چند سوشل ایکٹویسٹ سے بات ہوئی تو وہ بھی بزدار سائیں کو اس سیٹ پر بٹھانے کے فیصلے کے خلاف دکھائی دیئے۔
اصل میں ہمارے معاشرے کا ایک المیہ یہ ہے کہ وہ بنا کسی تحقیق کے بغیر کچھ جانے ہی ایک مائند سیٹ بنانے والوں کے شکنجے میں آجاتے ہیں۔

میڈیا میں ایک تھیوری ہےمیجک بلٹ تھیوری (magic bullet theory ) یعنی میڈیا اپنے ایجنڈے کے تحت لوگوں کا مائنڈ سیٹ بنا لیتا ہے، میرے خیال میں عثمان بزدار کے حوالے سے میڈیا، اپوزیشن بلکہ پی ٹی آئی کے اپنے ہی بعض سیاست دانوں نے اس تھیوری کا استعمال کیا ہے۔
اب ذرا حقائق پر آئیں اور آپ فیصلہ کریں کہ بزدار تبدیلی کا نشان ہے کہ نہیں،  میں یہاں پر ان کے چند  کارناموں کا ذکر کروں گا۔


پہلی بات تو یہ کہ عثمان بزدار پولیٹیکل سائنس میں ایم اے کے ساتھ ساتھ لمز اور امریکہ کی یونیورسٹی سے کورسز کر چکے ہیں یعنی انھیں سیاست سے ناسمجھ کہنے والا خود ہی ناسمجھ ہے۔
وزارت اعلیٰ کا منصب سنبھالا تو بزدار نے پنجاب میں پناہ گاہیں بنائیں جہاں غریب لوگوں کو رہائش کے ساتھ ساتھ ان کو مفت کھانا اور علاج و معالجہ بھی مہیا کیا جاتا ہے، بلاشبہ یہ ایک ایسا اقدام ہے جس سے ہزاروں لوگ مستفیض ہورہے ہیں۔


177 ریسٹ ہاؤسز جن کو مختلف محکموں کے افسران استعمال کرتے تھے ان کے دروازے عام لوگوں کیلئے کھول دیئے۔اس فیصلے سے نہ صرف افسران کی موجیں ختم ہوئیں بلکہ ملکی خزانے کو اچھا خاصہ فائدہ ہوا۔
36 اضلاع میں 72 لاکھ لوگوں کو ہیلتھ کارڈ کی فراہمی۔ ۔۔بلاشبہ یہ ایک بہت بڑا پراجیکٹ ہے ۔
 پنجاب میں ٹیکس کولیکشن تقریبا 104 فیصد بہتر ہوئی ہے ۔


وزیراعلیٰ پنجاب نے ایک سال میں وہ کارنامہ کیا، جو ماضی میں کسی نے نہیں کیا۔ سرکاری اعدادو شمار کے مطابق انہوں نے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ کے ملازمین کے علاوہ ساٹھ فی صد خرچہ کم کر دیا ہے۔ 2019-2020 کی پہلی سماہی میں پنجاب میں تین سو پینسٹھ ارب کی آمدن ہوئی اور اخراجات نکال کر 75ارب کی بچت ہوئی۔
وزیراعلیٰ پنجاب نے صحت کے شعبوں میں بے تحاشہ کام کیا اور پی ٹی آئی کا صحت کا نعرہ سچ ثابت کر دکھایا۔

  ڈیرہ غازی خان میں 200 بستروں پر مشتمل انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی اسپتال کا قیام،  ڈی جی خان ٹیچنگ ہسپتال میں گائنالوجی بلاک کا قیام، ڈی جی خان میں ڈی ایچ کیو کی اپ گریڈیشن، محکمہ صحت پنجاب میں یونیورسٹی آف چائلڈ ہیلتھ سائنسز لاہور،مدر اینڈ چائلڈ ہسپتال لاہور کا قیام، پی کے ایل آئی میں ڈائلیسیز یونٹ کا افتتاح ، ایڈز سے بچاؤ کیلئے صوبے بھر کے تعلیمی اداروں میں آگاہی مہم، جیلوں میں HIVسکریننگ سہولیات کی فراہمی، نئے ڈاکٹروں کی بھرتیاں، حال میں ہی سیالکوٹ میں پنجاب حکومت کی جانب سے 500 بستروں پر مشتمل ہسپتال کے قیام کا اعلان، میانوالی میں زچہ بچہ ہسپتال کا اعلان کیا گیا۔


تعلیمی میدان میں بزدار حکومت نے جھنڈے گاڑ دیئے۔ صوبے بھر میں 9 یونیورسٹیوں کا اعلان کیا گیا جن کی تعمیر جاری ہے۔ جن میں تھل، ڈی جی خان اور بھکر سمیت دیگر ایسے شہروں میں یونیورسٹیاں بنائی جارہی ہیں جہاں لوگوں کو اعلیٰ تعلیمی ادارے مہیا نہیں اور لوگوں کو دور دراز جانا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ نئے سکولوں اور کالجز کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا جن کی تعمیر جاری ہے۔


بزدار کے دور میں مزدروں کی تنخواہ کم از کم 16500 مقرر کی گئی۔
غریب سرکاری ملازمین کو بھی خوش کیا، سرکاری ملازمین کے بچوں کےلئے میرج گرانٹ میں تین گنا اضافہ کیا گیا۔ سرکاری ملازم اگر وفات پاجاتا ہے تو  50ہزار جنازہ گرانٹ  ملے گی اور بیوہ کی ماہانہ گرانٹ 5ہزار سے بڑھا کر تاحیات20ہزار روپے کی گئی۔
پنجاب میں نیا پاکستان ہاوسنگ اسکیم اور آسان قرضہ اسکیم لائی گئی، جن سے لوگوں کو چھت اور لاکھوں نوکریاں لوگوں کو ملیں گی۔


علاوہ ازیں عثمان بزدار نے جتنے کارنامے صرف ڈیڑھ سال میں سر انجام دیئے، اگر سارے لکھنا شروع کردوں تو میں لکھتے لکھتے اور آپ پڑھتے پڑھتے تھک جائیں گے،  میرے خیال میں تو اگر بزدار کو اس موقع پر تبدیل کر دیا گیا تو یہ صوبے، ملک پاکستان ، عوام حتی کہ پی ٹی آئی کیلئے کافی نقصان دہ ثابت ہوگا، کیوں بزدار ایک شریف انسان ہیں، نہ تو کرپٹ ہے نہ پیسوں کا لالچی۔۔۔ تو اس سے بہتر ہیرا آپ کو کہاں ملے گا؟ قارئین اب آپ بتائیں کیا بزدار تبدیلی کا نشان نہیں؟
© جملہ حقوق بحق ادارہ اُردو پوائنٹ محفوظ ہیں۔ © www.UrduPoint.com

تازہ ترین بلاگز :

Your Thoughts and Comments