وزیراعظم کے عہدے پر فائز ہونا بالکل پسند نہیں .. مدت ختم ہونے سے پہلے دستبردار ہونا پسند کروں گا .. نوری المالکی۔۔ (تفصیلی خبر)

بدھ جنوری 21:07

بغداد(اُردو پوائنٹ تازہ ترین۔ 3جنوری2007ء ) عراق کے وزیر اعظم نوری المالکی نے کہا ہے کہ وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونا بالکل پسند نہیں اور اس عہدے کی مدت ختم ہونے سے پہلے ہی دستبردار ہونا پسند کروں گا ۔ ایک امریکی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں عراقی وزیراعظم نے کہاکہ وہ ہر گز اس عہدے کے لیے دوبارہ امیدوار نہیں بننا چاہیں گے اور یہ عہدہ لینا ہی نہیں چاہتے تھے۔

انہوں نے کہاکہ میں صرف قومی مفاد کے خاطر اس کے لیے راضی ہوا تھا لیکن میں ایسا پھر نہیں کروں گا۔نوری المالکی کے دور حکومت میں ملک میں فرقہ وارانہ تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور حکومتی دھڑوں میں بھی اختلافات بڑھے ہیں۔ کچھ اطلاعات کے مطابق وہ امریکہ کا اعتماد بھی کھو چکے ہیں۔مالکی صدام حسین کے خلاف لڑنے والی شیعہ مزاحمتی تحریک کے رکن ہیں۔

(جاری ہے)

وہ وزیر اعظم کے لیے صرف اس وقت نامزد ہوئے جب سنی اور کرد اراکین پارلیمنٹ نے اکثریتی شیعہ اتحاد کے پہلے امیدوار کو قبول نہیں تھا۔ عراقی وزیراعظم نوری المالکی کی نامزدگی پر تمام جماعتیں متفق ہو سکی تھیں اور انہوں نے پچھلے سال مئی کے مہینے میں یہ عہدہ سنبھال لیا تھا۔وہ اپنی شیعہ اتحاد میں مختلف گروہوں میں بھی اختلافات رہے ہیں اور ان پر قابو پانا ان کے لیے مشکل رہا ہے۔

اس کے علاوہ سنی سیاستدان ان پر الزام لگاتے ہیں کہ انہوں نے عراق میں سرگرم شعیہ ملیشا گروپوں کو غیر مسلح کرنے کے لیے نا کافی کوششیں کی ہیں۔پچھلے سال امریکی روزنامہ ’دی نیو یارک ٹائمز‘ نے امریکہ کی قومی سلامتی کے مشیر کے ان کے بارے میں لکھے گئے دستاویز کو شائع کیا تھا۔ اس میں نور المالکی کی قیادت پر سخت تنقید کی گئی تھی۔ اس کے باوجود صدر بش نے بعد میں یہ بیان دیا کہ مالکی کو ان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔

تاہم عراقی وزیر اعظم امریکہ سے خاصے ناخوش ہیں اور کئی مرتبہ کہہ چکے ہیں کہ امریکہ نے عراقی افواج کو مناسب تربیت نہیں دی اور نہ ہی انہیں پورا ساز و سامان فراہم کیا ہے۔انہوں نے یہ بات ایک بار پھر ’وال سٹریٹ جرنل‘ کو دیے گئے انٹرویو میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’اس سے دہشت گردوں کو مار کر بھاگنے کا موقع مل جاتا ہے۔ عراق میں جو ہو رہا ہے وہ مختلف ’گینگز‘ کی لڑائی ہے اور ساتھ ایک دہشت گرد جنگ بھی۔ اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک بہت مضبوط فوج کی ضرورت ہے جس کے پاس فوری رد عمل کی صلاحیت ہو۔‘تاہم عراقی وزیر اعظم نے اس انٹرویو میں یہ بھی کہا کہ ان کو یقین ہے کہ عراق میں امن بحال ہو جائے گا۔

متعلقہ عنوان :