بے نظیر کا چیف الیکشن کمشنر کو خط، ووٹر فہرستوں بارے اپنے تحفظات سے آگاہ کیا

جمعہ جولائی 21:16

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔13جولائی۔2007ء) پاکستان پیپلز پارٹی کی چیئرپرسن سابق وزیراعظم محترمہ بینظیر بھٹو نے چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) قاضی محمد فاروق کے نام ایک خط لکھ کر انہیں نیشنل ڈیموکریٹک انسٹی ٹیوٹ (این ڈی آئی) کی جانب سے ووٹر فہرستوں کے بارے میں ایک رپورٹ سے آگاہ کیا ہے جس میں ووٹر فہرستوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

محترمہ بینظیر بھٹو کا یہ خط چیف الیکشن کمشنر کو رکن صوبائی اسمبلی پنجاب عامر فدا پراچہ نے پہنچایا۔ خط میں محترمہ بینظیر بھٹو نے لکھا ہے کہ جب تک ووٹر فہرستوں کی درستگی نہیں ہو جاتی انتخابات منصفانہ نہیں ہو سکتے۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے گزشتہ دو خطوط میں بھی چیف الیکشن کمشنر سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ قانون بتایا جائے جس کے تحت کسی اہل پاکستانی کو اس کے ووٹ کے حق سے محروم کیا جا سکتا ہے۔

(جاری ہے)

اس کے لئے انہوں نے یہ مطالبہ بھی کیا تھا کہ یہ غیرحتمی ووٹر فہرستیں ویب سائٹ پر ڈالی جائیں اور ان فہرستوں کی الیکٹرانک کاپیاں سیاسی پارٹیوں کو بھی فراہم کی جائیں۔ ان دونوں نکات پر الیکشن کمیشن نے ابھی تک کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ این ڈی آئی کی رپورٹ کے مطابق غیرحتمی فہرستوں پر شدید خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کیونکہ تقریباً ۳۰ فیصد ووٹر ان فہرستوں سے غائب ہیں اور ۲۶فیصد ووٹروں کا ان فہرستوں میں درست اندراج نہیں کیا گیا۔

محترمہ بینظیر بھٹو نے خط میں لکھا ہے کہ انہی وجوہات کی بنا پر پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا تھا کہ فہرستوں کی الیکٹرانک کاپیاں سیاسی جماعتوں کو فراہم کی جائیں۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے امید ظاہر کی کہ جن لوگوں نے یہ جعلی فہرستیں تیار کی ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے کہا کہ جب تک یہ فہرستیں درست نہیں کی جاتیں تو ان کے تحت انتخابات درست نہیں ہوں گے اور یہ انتخابات سے قبل دھاندلی کے مترادف ہے۔ انہوں نے کہا کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد الیکشن کمیشن کی آئینی ذمہ داری ہے اس لئے ایک ہفتے کے اندر اس بات سے مطلع کیا جائے کہ الیکشن کمیشن نے ان خدشات اور مطالبات کے حوالے سے کیا اقدامات اٹھائے ہیں۔