پاکستان کے نامور گلوکاروں کی وفات ‘بیماری اور فن سے دوری کے باعث کوئی بھی گلوکار انکی جگہ نہیں لے سکا

جمعہ 9 اکتوبر 2009 13:18

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبار تازہ ترین۔09 اکتوبر ۔2009ء) پاکستان کے نامور گلوکاروں کی وفات بیماری اور فن سے دوری کے باعث کوئی بھی گلوکار انکی جگہ نہیں لے سکا ۔تفصیلات کے مطابق کئی دہائیوں تک موسیقی کی دنیا میں راج کرنیوالی ملکہ ترنم نور جہاں کی وفات کے بعد انکی بیٹی ظل ہما نے گلوکاری کی کوشش کی مگر وہ کسی بھی طور پر اپنی والدہ کی جانشین ثابت نہ ہو سکیں ۔

استاد نصرت فتح علی خان جیسے گلوکار کے دنیا سے جانے کے بعد انکے بھتیجے راحت فتح علی خان نے موسیقی میں اپنا نام بنانے کی کوشش کی مگر وہ بھی استاد نصرت فتح علی خان کی موسیقی کو چھونے میں ناکام رہے ۔ اسکے علاوہ فوک گلوکارہ ریشماں کی بیماری کے بعد انکے بیٹے سانول اور بہو روح ریشماں نے بھی گلوکاری کی کوشش کی مگر وہ بھی کامیاب نہ ہو سکے ۔

(جاری ہے)

برصغیر کے نامور گلوکار مہندی حسن خان کی بیماری کے بعد انکے بیٹے آصف مہندی نے بھی اپنے باپ کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش کی مگر وہ مہندی حسن جیسے مقام سے کوسوں دور رہے ۔ انکے بعد غلام علی ‘عطاء اللہ عیسی خیلوی ‘ترنم ناز ‘نیئر ہ نور ‘طاہر ہ سید ‘مسعود رانا ‘زبیدہ بیگم ‘روشن آراء بیگم ‘تصور خانم ‘ثریا ملتانیگر‘اے نیئر ‘ناہید اختر ‘استاد حامد علی خان ‘استاد اسد علی خان اور فریدہ خانم کے بعد موسیقی کی دنیا میں کوئی بھی ایسا گلوکار انکی جگہ نہیں لے سکا اور ان عظیم گلوکاروں کی اپنے فن سے دوری سے موسیقی دم تھوڑتی نظر آرہی ہے ۔

متعلقہ عنوان :