نہروں کے پشتوں پرتجاوزات کے خلاف آپریشن کے تیسرے مرحلے کاآغاز

منگل فروری 23:50

حیدرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 فروری2018ء) اینٹی انکروچمنٹ کے عملے نہروں کے پشتوں پرتجاوزات کے خلاف آپریشن کے تیسرے مرحلے کاآغاز کردیا،درجنوں ،رہائشی مکانات،پختہ تعمیرات مسمارکردیں گئیں،کاروائی کے دوران کئی مقامات پرقابضین کی مزاحمت پولیس نے ناکام بنادی، 4قابضین کوحراست میں لے لیا، سپریم کورٹ صاف پانی کمیشن کے احکامات کی روشنی میں ڈپٹی کمشنر حیدرآباد محمدسلیم راجپوت نے نگرانی میں اینٹی انکروچمنٹ کے عملے نے نہروں کے پشتوں پرقائم بھینسوں کے باڑوں اورپختہ تعمیرات مسمار کرنے کے لئے انسدادتجاوزات آپریشن کے تیسرے مرحلے کاآغاز کردیا،عملے نے اسپیشل جوڈیشنل مجسٹریٹ کی نگرانی میں بھاری مشنری سے درجنوں بھینسوں کے باڑوںکومسمارکردیا،اینٹی انکروچمنٹ کے عملے نے کاروائی کاآغاز نیوپھلیلی (پنیاری ) نہر کے پشتے سے کیاجبکہ ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر ون غلام قادرجونیجو،اسسٹنٹ کمشنر سٹی آغاذوالفقاردرانی،اسپیشل جوڈیشنل مجسٹریٹ رضوان جتوئی،میونسپل کمشنر شاہد علی خان،بلدیہ میٹ سیکشن کے انچارج شاہد قریشی ،ایری گیشن کے افسران اورپولیس کی بھاری نفری موجود رہی ،کاروائی کے آغاز پربعض قابضین نے تجاوزات بچانے کے لئے شدید مزاحمت کی جیسے موقع پر موجود پولیس کی بھاری نفری نے ناکام بناکر4افراد کوحراست میں لے لیا،اینٹی انکروچمنٹ کی کاروائی کے بعد علاقہ ملبے کا ڈھیر بن گیا، بلدیہ میٹ سیکشن اورڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن نے مشترکہ آپریشن کرکے اکرم واہ،نیوپھلیلی (پنیاری)،اوراولڈپھلیلی نہروں کے پشتوں پر قائم بھینسوں کے باڑوں کوخالی کرالیاتھاجنہیں مسمارکرنے کے لئے اب انسدادتجاوزات آپریشن کے تیسرے مرحلے کاآغاز کردیاگیاہے،جبکہ ڈپٹی کمشنر محمد سلیم راجپوت نے اینٹی انکروچمنٹ عملے کو تینوں نہروں کے پشتوں پرتجاوزات کے خاتمے تک پھرپورآپریشن جاری رکھنے اورمزاحمت کرنے والے قابضین کی گرفتاری کاحکم دیا ہے۔