اگرعلمائے کرام معاشرے سے فرقہ واریت کے خاتمے کا علم اپنے ہاتھوں میں تھام لیں تو کوئی ہمارے اتحاد کو نقصان پہنچا سکتا ہے ‘رفیق رجوانہ

دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے میں علماء کاکردار قابل تحسین ہے ،اب فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے انہیں حکومت کے ساتھ مل کر مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی ‘گورنر پنجاب

پیر فروری 19:28

اگرعلمائے کرام معاشرے سے فرقہ واریت کے خاتمے کا علم اپنے ہاتھوں میں ..
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 19 فروری2018ء) گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ نے کہا ہے کہ اگرہمارے علمائے کرام معاشرے سے فرقہ واریت کے خاتمے کا علم اپنے ہاتھوں میں تھام لیں تو دشمن خواہ کتنی ہی سازشیں کر لے وہ نہ تو ہم میں تفرقہ ڈال سکتا ہے اور نہ ہمارے اتحاد کو نقصان پہنچا سکتا ہے ،دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خاتمے میں علماء کاکردار قابل تحسین ہے اور اب فرقہ واریت کے خاتمے کے لیے انہیں حکومت کے ساتھ مل کر مشترکہ جدوجہد کرنا ہوگی ۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے پاکستان علماء کونسل کے بیس رکنی وفد سے ملاقات کے دوران کیا جنہو ںنے ممبر اسلامی نظریاتی کونسل صاحبزادہ زاہد محمود قاسمی کی قیادت میں ان سے گورنر ہاؤس لاہور میں ملاقات کی ۔ گورنر پنجاب نے کہاکہ اسلام کے نام پر بننے والی اس مملکت خداداد میں اسلام کی سربلندی اور ملکی سالمیت کے لیے تمام مکاتب فکر کے علماء کو اپنا کردار ادا کرنا ہو گا-انہوں نے کہا کہ قرآن و سنت کی روشنی پر مبنی علماء کی تقریریں و تحریریں دلوں پر اثر کرتی ہیں اور یہ بھی آپ لوگوں کا فرض ہے کہ آپ فرقہ واریت کے خلاف یک زبان ہو کر مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دیں - انہوں نے کہا کہ پاکستان دنیا کی واحد اسلامی مملکت ہے جو نظریے کی بنیاد پر معرض وجود میں آئی اور یہی نظریہ ہمارے دین اور ایمان کا حصہ ہے اور اس کا صحیح تشخص اجاگرکرنا وقت کی اہم ضرورت ہے - گورنر نے کہا کہ ہم اس نبی ﷺ کے پیروکار ہیں جنہوں نے ہمیشہ محبت ، رواداری اور بھائی چارے کا درس دیا ہے ، اسلام کے نام پر دوسروں کو نقصان پہنچانے والوں کا اس دین سے کوئی تعلق نہیں- انہو ںنے کہا کہ پاکستان صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ اقلیتوں کے لیے بھی ایک محفوظ سرزمین ہے اور غیر مسلموں کو دی جانے والی مذہبی آزادی حقیقی معنوں میں اسلامی معاشرے کی عکاسی کرتی ہے ۔

(جاری ہے)

بعد ازاں،ء گورنر پنجاب ملک محمد رفیق رجوانہ سے گورنر گلگت بلتستان میر غضنفر علی نے ملاقات کی ۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور سمیت مختلف معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہے ۔ سی پیک سے ملکی معیشت مضبوط ہوگی۔اقتصادی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے بے شمار مواقع پیدا ہورہے ہیں۔

گورنر پنجاب نے کہا کہ ہمیں اپنے نوجوانوں کو جدید تعلیم سے آراستہ کرنا ہے تاکہ وہ ملکی تعمیر و ترقی میں بہترین کردار ادا کرسکیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت پنجاب صوبہ گلگت بلتستان میں تعلیم کے فروغ سمیت دیگر ترقیاتی کاموں کے لئے ہر قسم کا تعاون فراہم کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب کی یونیورسٹیوں میں گلگت بلتستان سمیت دیگر صوبوں کے طلباء کا کوٹہ مزید بڑھایا جارہا ہے تاکہ وہ پنجاب کے تعلیمی اداروں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے ملک و قوم کا نام روشن کرسکیں۔

گورنر نے کہا کہ موجودہ حکومت عوام کی خدمت پر یقین رکھتی ہے یہی وجہ ہے کہ حکومت عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خصوصی توجہ دے رہی ہے تاکہ عام لوگوں کو بنیادی سہولتوں کو فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔ اس موقع پر گورنر گلگت بلتستان نے کہا کہ دونوں صوبوں کے درمیان روابط کو زیادہ سے زیادہ بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ پنجاب حکومت نے دیگر صوبوں کے زیر تعلیم طلباء کو حصول علم کے لئے قابل تحسین سہولتیں فراہم کی ہیں۔

دریں اثناہء ملتان ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر ملک محبوب علی سندھیلہ کی قیادت میں27 رکنی وفد سے گفت گو کرتے ہوئے گورنر پنجاب نے کہاکہ آئین اور قانون کی بالادستی درحقیقت جمہوریت کے استحکام کی ضمانت ہے اور تمام آئینی اداروں کو چاہیے کہ وہ اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے جمہوریت کے استحکام کے لیے کوششیں کریں - انہو ںنے کہا کہ عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں صرف وکلاء ہی پیش پیش نہ تھے بلکہ معاشرے کے ہر طبقے اور ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے شخص نے اس میں بھرپور حصہ لیا جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پورا معاشرہ آئین اور قانون کی بالادستی کے بارے میں شعور رکھتا ہے -گورنر پنجاب نے وکلاء پر زوردیا کہ وہ انصاف کی فوری فراہمی کو یقینی بنانے اور سائلین کی مشکلات حل کرنے کے لیے ہر وقت کمربستہ رہیں اور ہر قسم کے سیاسی نظریات سے بالاترہو کر انصاف کا بول بالا کرنے کے لیے حکومتی کوششوں کا ساتھ دیں - انہو ںنے کہا کہ وکلاء برادری کے مسائل حل کرنے اور ان کی استعداد کا ر میں اضافے کے لیے حکومت نے متعدد پروگرامز شروع کیے ہیں - گورنر پنجاب نے کہا کہ عوام کو فوری انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کا مشن وکلاء کے موثر کردار کے بغیر پورا نہیں ہو سکتا اور اس سلسلے میں انہیں اپنا بھرپورکردار ادا کرنا چاہیے۔

متعلقہ عنوان :