بیٹے نے تین سال تک اپنی والدہ کی لاش کو گھر میں چھپائے رکھا

Sumaira Faqir Hussain سمیرا فقیرحسین جمعہ اپریل 13:25

بیٹے نے تین سال تک اپنی والدہ کی لاش کو گھر میں چھپائے رکھا
کولکتہ (اُردو پوائنٹ تازہ ترین اخبار۔06 اپریل 2018ء) : والدہ کی پنشن حاصل کرنے کے لیے ایک بھارتی شخص نے اپنی والدہ کی لاش کو گھر میں 3 سال تک چھُپائے رکھا۔ سوابرتا نامی ایک شخص نے والدہ کی پنشن کے لیے ان کے انگوٹھے کا نشان حاصل کرنے کی غرض میں اپنی والدہ کی لاش کو 3 سال تک گھر میں ہی چھُپائے رکھا۔ اس کی والدہ ایک ریٹائرڈ ایف سی آئی آفیسر تھیں، جن کی ماہانہ پنشن 50 ہزار روپے تھی۔

سوابرتا نامی یہ شخص کافی عرصہ سے فارغ تھا اور نوکری کی تلاش میں تھا، جب اس کی والدہ کا انتقال ہوا تو اس نے اپنی والدہ کی لاش کو گھر میں ہی مختلف کیمیکلز کی مدد سے فریزر میں محفوظ کر لیا، ایک دن ایک مقامی شخص سوابرتا کے گھر گیا تو وہاں اسے کافی زیادہ کیمیکلز کی بُو محسوس ہوئی،اس وقت اس کےپڑوسی کو شک ہوا اور انہوں نے پولیس کو اطلاع دی۔

(جاری ہے)

پڑوسیوں نے بتایا کہ مذکورہ شخص نے ہمیں بتا رکھا تھا کہ میری والدہ نے موت کے بعد کچھ اعضا عطیہ کرنے کی وصیت کی تھی جس کی وجہ سے ان کی لاش میڈیکل ٹیسٹ کے لیے مردہ گھر میں رکھی گئی ہے۔ پولیس نے سوابرتا کے والد سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ انہیں اس کا علم تو تھا لیکن وہ پولیس کو مطلع کرنے سے خوفزدہ تھے، پولیس کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے لیے سوابرتا اور اس کے والد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ سوابرتا نے پولیس کے سامنے بیان دیا کہ وہ اپنی والدہ سے بے حد محبت کرتا تھا اور انہیں خود سے جُدا نہیں کرنا چاہتا تھا اسی لیے ایسا کیا لیکن بعد میں اپنا بیان تبدیل کر کے سوابرتا نے بتایا کہ اس نے یہ گھناؤنا فعل صرف اورصرف اپنی والدہ کی پنشن حاصل کرنے کے لیے کیا۔

متعلقہ عنوان :