پانی کی بڑھتی ہوئی قلت پر قابو پانے کیلئے فوری اقدامات کرنا ہونگے،وسیم وہرہ

پیر اپریل 19:39

کراچی ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 16 اپریل2018ء) فیڈریشن چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری(ایف پی سی سی آئی)کی اسٹینڈنگ کمیٹی برائے اکیڈمیا، انڈسٹری کولیبریشن آن واٹر ریسورسز کا پہلا اجلاس چیئرمین محمد وسیم وہرہ کی صدارت میں فیڈریشن ہائوس میں منعقد ہوا۔ اجلاس میں ایف پی سی سی آئی کے سینئرنائب صدر مظہراے ناصر، سابق نائب صدر حنیف گوہر، صدیق شیخ، ایڈیشنل چیف انجینئر اور پروجیکٹر ڈائریکٹر(حب ڈیم پروجیکٹ) واپڈا محمد احتشام الحق، مسلم محمدی، کمیٹی کے سینئروائس چیئرمین پروفیسر مہران یونیورسٹی رسول بخش مہر، وائس چیئرپرسن مس عینی زہرہ اور دیگر بھی شریک تھے۔

قائمہ کمیٹی چیئرمین محمدوسیم وہرہ نے کہا کہ پاکستان میں پانی کی قلت بدستور بڑھتی جارہی ہے جس پر قابو پانے کیلئے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنا ہوں گے، اس وقت ایک ہزار گیلن کیپٹا (فی کس) پانی موجود ہے جبکہ پاکستان کے قیام کے وقت ملک میں 5 ہزار گیلن فی کس پانی موجود تھا لیکن خطرہ ہے کہ 2025ء تک یہ پانی مزید گھٹ کر 500 گیلن فی کس رہ جائے گا۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ پانی کے استعمال کو ازسرنو ریگولیٹ کرناہوگا اور کسی بھی سیکٹر کو پانی مفت فراہم نہیں کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ پانی کی کمی سے صنعتی پیداواری لاگت میں اضافہ ہورہا ہے جبکہ کوالٹی میں بھی کمی واقع ہوئی ہے جس کے منفی اثرات ایکسپورٹ پر پڑ رہے ہیں۔ فیڈریشن کے سینئر نائب صدر مظہر اے ناصر نے کہا کہ مستقبل میں پانی کے ایشوز ہوں گے، دنیا بھر میں پانی کے ذخائر پر کام ہورہا ہے، ملک میں نئے ڈیمز کی تعمیر ضروری ہے، جتنا پانی کے ذخائر ہوں گے بجلی بھی بن پائے گی اور صنعتی وگھریلو استعمال کیلئے پانی بھی دستیاب ہو گا، پانی کے ذخائر کیلئے چائنا بھی پاکستان کے ساتھ تعاون کیلئے تیار ہے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ میں 4 ایفلوئنٹ پلانٹ لگائے جانے تھے، وفاق سے اس کی منظوری ہوچکی ہے لیکن سندھ حکومت نے اس سلسلے میں کیا کام کیا ہے، اس بارے میں فیڈریشن کو آگاہ کرنا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں پانی کو ضائع کرنے کے رجحان کو ختم کرنا ہو گا، ایف پی سی سی آئی نے آئی بی اے اور سی بی ایم کے تعاون سے 150 طلباء کا انتخاب کیا ہے جو مختلف موضوعات پر ریسرچ کریں گے اور جب ریسرچ پیپر مکمل ہوگا تو اس کے بعد ہم ان پر سیمینارز بھی کریں گے ۔

حنیف گوہر نے کہا کہ پانی کے مسائل کو صرف کراچی تک ہی محدود نہیں کرنا چاہئے۔ مسلم محمدی نے کہا کہ پانی کی قلت صرف کراچی کو ہی نہیں بلکہ پورے ملک کو ہے۔ ایڈیشنل چیف انجینئرواپڈا محمداحتشام الحق نے کہا کہ ایسے ایریاز موجود ہیں جہاں سرمایہ لگا کرپانی ذخیرہ کرنے کے استعمال میں لایا جاسکتا ہے،،پانی کو ذخیرہ کرنا انتہائی ضروری ہے جبکہ ڈیمز کا بننا اہم ترین ضرورت ہے۔

متعلقہ عنوان :