ایرانی فوجی طاقت ہمسایوں کیلئے کوئی خطرہ نہیں، صدر روحانی

ایران ہر وہ ہتھیار خود بنائے گا یا خریدے گا جو اس کے دفاع کے لیے ضروری ہو گا، ایرانی مسلح افواج ہمسایہ ممالک کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں،غیر ملکی طاقتیں ملکوں پر خودسرانہ جارحیت کرتی ہیں،تقریب سے خطاب ْ

بدھ اپریل 15:50

تہران (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 18 اپریل2018ء)ایرانی صدر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایران ہر وہ ہتھیار خود بنائے گا یا خریدے گا جو اس کے دفاع کے لیے ضروری ہو گا، ایرانی مسلح افواج ہمسایہ ممالک کے لیے کوئی خطرہ نہیں ہیں،غیر ملکی طاقتیں ملکوں پر خودسرانہ جارحیت کرتی ہیں ۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران کے صدر حسن روحانی نے ایرانی فوج کے دن کی مناسبت سے ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جارح طاقتوں نے ایران اور مغربی ایشیا کے اطراف کے علاقوں میں غیر قانونی طور پر پڑاو ڈال دیا ہے اور ان علاقوں میں دہشتگرد گروہوں سے بڑی طاقتیں فائدہ اٹھا رہی ہیں۔

صدر حسن روحانی نے ایرانی سپاہ اور فوج کے کردار کو خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لئے اہم قراردیتے ہوئے کہا کہ بڑی طاقتوں کی سازشوں کا مقابلہ کرنے کے لئے ایرانی فوج کو تیار رہنا چاہیے اور خطے میں امن و استحکام پیدا کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے اوردہشتگردوں کو اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہئیے کہ وہ ایران کی جانب بری نظروں سے دیکھے۔

(جاری ہے)

صدر حسن روحانی نے ایرانی فوج کو اسلام اور ایران کی طاقت کا بہترین نمونہ قراردیتے ہوئے کہا کہ ایرانی فوج پیشرفتہ ہتھیاروں کے ساتھ اسلامی، انسانی اور اخلاقی اقدار کا بھی مظہر ہے اور ایرانی فوج ایمان کے ہتھیار سے بھی مکمل طور پرمسلح ہے۔صدر حسن روحانی نے کہا کہ ایرانی فوج کو جن ہتھیاروں کی ضرورت ہوگی انھیں وہ بنائے گی۔اورملک و قوم کے دفاع کے لئے ایران کو ہھتیاربنانے کے لئے کسی سے اجازت لینے کی ضرورت نہیں ہے۔

انہوں نے بڑی طاقتوں کومتنبہ کیا کہ بڑی طاقتیں علاقے کو بارود کے ڈھیر میں تبدیل نہ کریں اور علاقائی ملکوں کے ساتھ سودے بازی نہ کریں اور ہتھیار بنانے کے کارخانوں میں اضافہ نہ کریں۔انہوں ںے اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ہماری مسلح افواج نے علاقلائی امن و سلامتی کیلئے اہم کردار ادا کیا کہا کہ ایران اپنی پوری طاقت کے ساتھ علاقائی ملکوں کی صلح و آشتی کا جواب مثبت انداز میں دے گا اس لئے کہ ایران بڑا ملک ہے اور اس کی قوم ایک عظیم قوم ہے اور اسے دوسرے ملکوں کی سرزمین کی ضرورت نہیں ہے۔