جرمن سوشل ڈیموکریٹک پارٹی کی155 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ خاتون سربراہ منتخب

پارٹی میں اصلاحات ممکن ہیں اور میرا ارادہ ہے کہ میںآج سے ہی یہ کام شروع کر دوں،بابلیس کی گفتگو

پیر اپریل 13:10

برلن(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 اپریل2018ء) جرمنی کی سوشل ڈیموکریٹک پارٹی نے اپنی 155 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک خاتون سیاستدان کو بطور سربراہ منتخب کر لیا ہے۔ نئے پارٹی سربراہ کا چناؤ ایک پارٹی کانفرنس میں کیا گیا۔۔جرمن ریڈیو کے مطابق اس ووٹنگ میں وسیع تر مخلوط حکومت میں شامل سوشل ڈیموکریٹک پارٹی (ایس پی ڈی) کے تقریبا چھ سو ارکان اور پینتالیس بورڈ ممبرز حصہ لینے کے اہل تھے۔

(جاری ہے)

اس ووٹنگ میں 66.35 فیصد ممبران نے آندریا ناہلیس کے حق میں ووٹ دیا جب کہ دیگر نے ان کی مخالفت کی، غیر حاضر رہے یا ووٹنگ کے عمل میں شرکت نہ کی۔ 47 سالہ آندریا ناہلیس کے انتخاب کو ایس پی ڈی کی مستقبل کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔اس کامیابی کے بعد ناہلیس نے کہا کہ حکومت میں رہتے ہوئے بھی پارٹی میں اصلاحات کی جا سکتی ہیں۔ اس سوشل ڈیموکریٹ خاتون سیاستدان کے مطابق حکومت کا حصہ رہتے ہوئے پارٹی میں اصلاحات ممکن ہیں اور میرا ارادہ ہے کہ میںآج سے ہی یہ کام شروع کر دوں۔ ناہلیس نے مزید کہا کہ جرمنی کے بہترین مستقبل کی خاطر پارلیمان میں درست فیصلوں کی ضرروت ہے، ’’حکومت کو ہماری حمایت کی ضرورت ہے۔ یہ دو پارٹیاں نہیں بلکہ ایک ہی سیاسی جماعت ہے۔

متعلقہ عنوان :