امریکی عدالت کا حکومت کو نوجوان تارکینِ وطن کو بے دخل نہ کرنے کا حکم

بدھ اپریل 15:41

واشنگٹن۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) امریکاکی ایک عدالت نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ ان سات لاکھ نوجوان تارکینِ وطن کو ملک بدر نہ کرے جنہیں ڈریمرز کے نام سے جانا جاتا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے کے مطابق واشنگٹن ڈی سی کی ایک وفاقی عدالت کے جج جان ڈی بیٹس نے گزشتہ روز اپنے فیصلے میں ٹرمپ حکومت کی جانب سے ڈیفرڈ ایکشن فار چائلڈ ہڈ ارائیول (ڈاکا) پروگرام کو ختم کرنے کے فیصلے کے بارے میں کہا ہے کہ یہ عملاً ناقابلِ وضاحت اور غیر قانونی ہے۔

(جاری ہے)

جج بیٹس نے کہا کہ محکمہ داخلہ ڈاکا پروگرام کو مارچ سے مرحلہ وار ختم کرنے کے فیصلے کا دفاع کرنے میں ناکام رہا ہے کیوں کہ وہ یہ ثابت نہیں کرسکا کہ یہ پروگرام کیوں غیر قانونی ہے۔ تاہم عدالت نے اپنے فیصلے کو 90 روز کے لیے مئوخر کرتے ہوئے محکمہ داخلہ سے کہا کہ وہ تارکینِ وطن کا یہ پروگرام ختم کرنے کی ٹھوس وجوہات 90 روز میں عدالت کے سامنے پیش کرے۔ عدالت نے محکمے کو اس عرصے کے دوران مذکورہ پروگرام کے تحت نئے تارکینِ وطن کی درخواستیں وصول کرنے کی بھی ہدایت کی۔

متعلقہ عنوان :