شام بین الاقوامی سطح پر بڑا خطرہ بن سکتا ہے،اقوام متحدہ کا انتباہ

اقوام متحدہ شام میں جنگ کے خاتمے میں مدد کے لیے تیار ہے، شام کا کوئی فوجی حل نہیں ہے،شام کو غیر منقسم اور یکجا رہنا چاہیے، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ آنتونتیو گوٹیریس

بدھ اپریل 20:18

نیویارک (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 اپریل2018ء) اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونتیو گوٹیریس نے خبرادار کیا ہے کہ شام بین الاقوامی سطح پر بڑا خطرہ بن سکتا ہے،،اقوام متحدہ شام میں جنگ کے خاتمے میں مدد کے لیے تیار ہے،شام کا کوئی فوجی حل نہیں ہے،شام کو غیر منقسم اور یکجا رہنا چاہیے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل آنتونتیو گوٹیریس نے زور دے کر کہا ہے کہ اقوام متحدہ شام میں جنگ کے خاتمے میں مدد کے لیے تیار ہے۔

برسلز میں اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ 1.3 کروڑ سے زیادہ شامی شہری سخت حالات میں زندگی گزار رہے ہیں جب کہ 65 لاکھ شامی ملک سے باہر رہنے پر مجبور ہو گئے۔گوٹیریس نے خبردار کیا کہ شام میں پھیلی ملیشیاؤں کی بڑی تعداد کے سبب یہ ملک بین الاقوامی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے باور کرایا کہ شام کا کوئی فوجی حل نہیں ہے۔ گوتیریس نے زور دیا کہ شام کو غیر منقسم اور یکجا رہنا چاہیے۔

دوسری جانب یورپی یونین میں خارجہ پالیسی کی ذمّے دار فیڈریکا موگرینی نے ایک بار پھر شام کے حل کے واسطے بات چیت کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ "ہم سادہ لوح نہیں اور جانتے ہیں کہ شام میں امن بات چیت آسان نہیں ہو گی"۔موگرینی کے مطابق کسی سیاسی حل کو یقینی بنانے کے لیے فوری طور پر متحرک ہونا چاہیے تا کہ شامی شہریوں کو امن میسر آ سکے۔ شام دیگر ملکوں کے درمیان شطرنج کی بساط نہیں"

متعلقہ عنوان :