سیاسی قوتوں کو اپنے تنازعات سیاسی فورمز پر طے کرنا چاہییں، بوجھل دل کے ساتھ یہ فیصلہ دے رہے ہیں، عدالت کے لئے جوڈیشل ریویو کے اختیار کا استعمال کوئی خوشگوار فریضہ نہیں

خواجہ محمد آصف کے خلاف تحریک انصاف کے سابق امیدوار عثمان ڈار کی پٹیشن پر اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلہ سے اقتباس

جمعرات اپریل 16:30

اسلام آباد ۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 26 اپریل2018ء) اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کے خلاف تحریک انصاف کے سابق امیدوار عثمان ڈار کی پٹیشن پر فیصلہ میں لکھا ہے کہ ہم بوجھل دل کے ساتھ یہ فیصلہ دے رہے ہیں کیونکہ اس فیصلہ سے نہ صرف ایک منجھا ہوا اور تجربہ کار سیاسی رہنما نااہل ہو رہا ہے بلکہ 342125 رجسٹرڈ ووٹرز کی امنگوںاور خوابوں کو بھی دھچکا لگا ہے۔

فیصلہ میں مزید لکھا ہے کہ عدالت کے لئے جوڈیشل ریویو کے اختیار کا استعمال کوئی خوشگوار فریضہ نہیں۔فیصلہ میں سابق چیف جسٹس حمود الرحمان کے ایک فیصلہ کا حوالہ ان الفاظ میں دیا گیا ہے کہ ایسے فیصلوں سے عدلیہ کسی ادارے پر فوقیت کا دعویٰ نہیں کرتی بلکہ وہ آئین کی پاسداری کو مقدم رکھتی ہے۔

(جاری ہے)

پارلیمنٹ وفاق کے اتحاد اور عوامی امنگوں کی علامت ہے۔

مناسب تھا کہ مدعی مقدمہ کی جماعت یہ معاملہ پارلیمنٹ کے فورم پر اٹھاتی۔ جب سیاسی قوتیں اپنے تنازعات سیاسی فورمز پر طے کرنے کی بجائے عدالتوں میں لے آتی ہیں تو اس کے نتائج اداروں پر مرتب ہوتے ہیں۔یہ طرز عمل ایک طرف مقننہ پر عوام کے اعتماد کو کم کرتا ہے تو دوسری طرف عدلیہ کو مخاصمانہ سیاست کے تنازعات میں ملوث کرنے کا خطرہ پیدا کرتا ہے۔

سیاسی قوتوں کو اپنے تنازعات سیاسی فورمز پر طے کرنا چاہییں۔یہ ایک تضاد ہے کہ پاکستان کا شمار ان چند ممالک میں ہوتا ہے جہاں پارلیمنٹ اور کابینہ کے ارکان کے لئے کوئی واضح اخلاقی معیار طے نہیں کیا گیا اور یہی چیز اس صورتحال کا باعث ہے جو ہمیں درپیش ہے۔واضح رہے کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کے لارجر بنچ نے جسٹس اطہر من الله کی سربراہی میں تحریک انصاف کے سابق امیدوار عثمان ڈار کی پٹیشن پر وزیر خارجہ خواجہ محمد آصف کے خلاف نااہلی کا فیصلہ دیا۔