وزارت قانون پنجاب نے آئندہ مالی کیلئے چار ماہ کا بجٹ 7مئی کو پیش کرنیکی تجویز دیدی ‘ ذرائع

پہلے چار ماہ کے اخراجات جاریہ کا تخمینہ 233.3 ارب روپے لگایا گیا ہے،اخراجات یکم جولائی سے اکتوبر تک ہونگے اخراجات جاریہ تنخواہوں ،پنشن ،قرضوں،سود اور یوٹیلٹی بلوں کی مد میں ہونگے،ترقیاتی بجٹ اور ٹیکسز کے اہداف شامل نہیں

بدھ مئی 23:44

لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 مئی2018ء) صوبائی وزارت قانون نے پنجاب کے مالی سال 2018-19 کے لئے چار ماہ کا بجٹ 7مئی کو پنجاب اسمبلی میں منظوری کیلئے پیش کرنے کی تجویز دیدی ۔ ذرائع کے مطابق پہلے چار ماہ کے اخراجات جاریہ کا تخمینہ 233.3 ارب روپے لگایا گیا ہے جس کی اسمبلی سے ضمنی گرانٹ کی صورت میں منظوری لی جائے گی۔یہ اخراجات یکم جولائی سے اکتوبر تک ہوں گے ۔

(جاری ہے)

ذرائع کے مطابق اخراجات جاریہ تنخواہوں ،پنشن ،قرضوں،سود اور یوٹیلٹی بلوں کی مد میں ہوں گے۔انتخابات کے بعد آنے والی نئی حکومت ان ا خراجات کو بجٹ میں شامل کر کے پورے سال کابجٹ بنائے گی ۔ ذرائع کے مطابق چار ماہ کے بجٹ میں ترقیاتی بجٹ اور ٹیکسز کے اہداف شامل نہیں ہوں گے۔سمری کی روشنی میں پنجاب حکومت نے چھٹا بجٹ نہ دینے کا فیصلہ کیا ہے ۔

متعلقہ عنوان :