او آئی سی کا روہنگیا مسلمانوں کے لیے مہم کے آغاز کا اعلان

پیر مئی 16:42

ڈھاکہ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 07 مئی2018ء) اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کے اجلاس میں رکن ممالک کے وزرائے خارجہ نے روہنگیا پناہ گزینوں کے معاملے پر میانمار کے خلاف کارروائی کے حوالے سے بین الاقوامی برادری کی حمایت حاصل کرنے کے لیے مہم کا آغاز کردیا۔میڈیارپورٹس کے مطابق بنگلہ دیش کے دارالحکومت ڈھاکہ میں ہونے والے آرگنائزیشن آف اسلامک کانفرنس ( او آئی سی کے دو روزہ اجلاس میں 53 رکن ممالک کے وزراء اور سفیروں نے شرکت کی، جس میں اس مہم کے لیے کمیٹی بھی تشکیل دی گئی۔

او آئی سی کے جنرل سیکریٹری یوسف بن احمد العثیمین نے اس اقدام کو روہنگیا مسلمانوں کی میانمار سے ہجرت کر کے بنگلہ دیش کے پناہ گزین کیمپوں میں آمد کے باعث پیدا ہونے والی بحران کی صورت حال کے خاتمے کے لیے بہت اہم قرار دیا۔

(جاری ہے)

ان کا کہنا تھا کہ کمیٹی روہنگیا مسلمانوں کے خلاف ہونے والی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا احتساب کرنے کے لیے بین الاقوامی برادری کو متحرک کرنے اور ان کا تعاون حاصل کرنے کے لیے کام کرے گی۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ اقدام بہت اہمیت کا حامل ہے جو روہنگیا کے مسلمانوں کے مسئلے کو حل کرنے کی سمت ایک ٹھوس قدم ہوگا۔اس ضمن میں بین الاقوامی جرائم کی عدالت میں استغاثہ کی جانب سے ٹریبیونل سے میانمار میں قتل عام اور ریپ کے الزامات کی تحقیقات کرنے کے لیے اجازت طلب کی گئی جبکہ بنگلہ دیش نے میانمار پر پناہ گزینوں کی واپسی کے لیے خاصہ سفارتی دباؤ بھی ڈالا۔اور اس سلسلے میں دونوں ممالک کے مابین نومبر میں پناہ گزینوں کی وطن واپسی کے لیے معاہدے پر بھی دستخط کیے گئے تھے تاہم اس کے تحت ایک بھی فرد واپس نہیں گیا۔

متعلقہ عنوان :