سندھ کا 1.03 ٹریلین سے زائد کا بجٹ آکل 10 مئی کو پیش ہو گا

آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 202 ارب روپے رواں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیے جائیں گے جبکہ 50 ارب روپے کی بلاک ایلوکیشن نئی ترقیاتی اسکیموں کے لیے مختص کی جائے گی

بدھ مئی 17:41

سندھ کا 1.03 ٹریلین سے زائد کا بجٹ آکل 10 مئی کو پیش ہو گا
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 مئی2018ء) سندھ حکومت کا آئندہ مالی سال2018-19کے لیے 1.03 ٹریلین ارب روپے سے زائد کا بجٹ کل 10 مئی بروز جمعرات سندھ اسمبلی کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 202 ارب روپے رواں ترقیاتی منصوبوں کے لیے مختص کیے جائیں گے جبکہ 50 ارب روپے کی بلاک ایلوکیشن نئی ترقیاتی اسکیموں کے لیے مختص کی جائے گی۔

آئندہ انتخابات کے بعد وجود میں آنے والی حکو مت کو یہ استحقاق دیا گیا ہے کہ وہ اپنی مختص 50 ارب روپے کی نئی اسکیموں کی رقم کو بڑھا کر 200 ارب روپے کی اسکیمیں تیار کرسکے۔

(جاری ہے)

اس طرح کا بجٹ پہلی بار پیش کیا جا رہا ہے جس میں صرف جولائی سے ستمبر تک اخراجات کی منظوری دی جائے گی جس کے بعد نئی حکومت اپنے طریقے سے نئی اسکیموں میں رد و بدل کرسکے گی۔

سندھ حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں محکمہ تعلیم کو سب سے زیادہ ترجیح دی ہے اور گذشتہ مالی سال کے مقابلے میں 17190 ملین روپے میں اضافہ کرتے ہوئے آئندہ مالی سال کے بجٹ میں 24398 ملین روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ محکمہ صحت کا بجٹ رواں مالی سال کے 12400 ملین روپے سے بڑھا کر 12500 ملین ملین روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ محکمہ داخلہ کا بجٹ 1850 ملین روپے سے بڑھا کر 2000 ملین روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔۔

متعلقہ عنوان :