لیبیائی حکومت کا تینوں اشتہاریوں کو’آئی سی سی‘ کے حوالے کرنے سے انکار ،عالمی عدالت انصاف کی سلامتی کونسل سے اپیل

ہفتہ مئی 22:49

دی ہیگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 مئی2018ء) عالمی عدالت انصاف نے سلامتی کونسل سے لیبیائی فوج کے افسر محمودورفلی، سیف الاسلام اور قذافی کے دور کے انٹیلی جنس چیف سامی بن خالد کی گرفتاری میں مدد کرنے کی اپیل کی ہے،لیبیائی حکومت نے تینوں اشتہاریوں کو’آئی سی سی‘ کے حوالے کرنے سے انکار کردیا۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق عالمی عدالت انصاف نے سلامتی کونسل کولیبیا کے سابق صدر معمر قذافی کے بیٹے سیف الاسلام اور2 دیگر اشتہاریوں کی گرفتاری کے لیے مددکی درخواست دے دی۔

خبررساں ادارے کے مطابق عالمی عدالت انصاف کی طرف سے درخواست اس وقت دی گئی، جب لیبیا کی حکومت نے تینوں اشتہاریوں کو’آئی سی سی‘ کے حوالے کرنے سے انکار کردیا۔ عالمی فوج داری عدالت کی طرف سے کہا گیا کہ لیبیائی فوج کے افسر محمودورفلی، سیف الاسلام اور قذافی کے دور کے انٹیلی جنس چیف سامی بن خالد کے خلاف جنگی جرائم کے الزامات عائد ہیں۔

(جاری ہے)

بین الاقوامی قوانین کے ماہر عبداللہ عبیدی کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل عالمی عدالت انصاف کی درخواست پر حرکت میں آسکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کے چارٹر کے آرٹیکل 7 میں یہ گنجایش موجود ہے کہ سلامتی کونسل جنگی جرائم کے مرتکب افراد کے خلاف قانونی کارروائی نہ ہونے کی صورت میں ان پر پابندیاں عائد کرسکتی ہے۔ نیز انہیں تحفظ دینے والوں کے خلاف بھی سلامتی کونسل پابندیوں سمیت کئی دیگر اقدامات کی مجاز ہے۔

ان تینوں افراد پر الزام ہے کہ وہ اپوزیشن کارکنوں کے خلاف ناروا سختیوں اور جنگی جرائم کے مرتکب ہوئے۔ عدالت کا کہنا ہے کہ وہ جنگی جرائم میں مطلوب تینوں لیبیائی ملزمان کی گرفتاری میں ناکام رہی ہے، اس لیے معاملے کو سلامتی کونسل میں پیش کیا جا رہا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں عبداللہ عبیدی نے کہا کہ سلامتی کونسل سے لیبیا کے مذکورہ تینوں اشتہاریوں کے خلاف کارروائی کا امکان کم ہے، کیوں کہ سلامتی کونسل کے 5 مستقل ارکان میں روس بھی شامل ہے، جسے ویٹو پاور کا درجہ حاصل ہے،جب کہ روس معمر قذافی کا حلیف رہا ہے۔ اس کے علاوہ لیبیا میں کئی افراد کے خلاف عالمی عدالت کے مقدمات پر روس تحفظات کا بھی اظہار کرچکا ہے۔

متعلقہ عنوان :