4روزے گزرنے کے باوجود کوئٹہ شہر کے اندر سستے بازار نہیں لگائے گئے

شہر میں پھلوں ،سبریوں اور گوشت کی قیمتوں میں اضافہ ،غریب کی دسترس سے دور جبکہ ضلعی انتظامیہ خاموش تماشائی بنے

اتوار مئی 19:30

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 مئی2018ء) ضلعی انتظامیہ اور میئر کوئٹہ کی جانب سے 4روزے گزرنے کے باوجود کوئٹہ شہر کے اندر سستابازار نہیں لگائے گئے تفصیلات کے مطابق ضلعی انتظامیہ اور کوئٹہ میٹروپولیٹن کارپوریشن کے میئر ڈاکٹر کلیم اللہ کی جانب سے 4روزے گزرنے کے باوجود کوئٹہ شہر میں کوئی سستا بازار نہیں لگایا گیا اس سے قبل میئر کوئٹہ نے ایک سستا بازار لگایا تھا جس میں اشیاء خوردونوش نہ ہونے کے برابر تھی ،اتوار کے روز بھی بینظیر پل کے قریب اتوار بازار لگایا جاتاہے اس میں بھی پھل مہنگے تھے جو غریب لوگوں کے بس سے باہر تھے ،خربوزہ 30روپے کلو ،آم0 18روپے کلو،آڑو 70روپے کلو ،چیری 180روپے کلو ،سیب 310روپے کلو ،لیمو 160روپے پائو ،آلو 40روپے ،ٹماٹر 40روپے ،مرغی 320روپے کلو ،چھوٹا گوشت فی کلو 850جبکہ بڑا گوشت فی کلو 450روپے فروخت ہوتاجارہا ہے جبکہ سبزی جن میں گدو ،گوبھی ،پالک ،ہربی ودیگر سبزیاں کم سے کم 30سے 35روپے کلو اتوار بازار میں فروخت ہورہی تھی جو غریب لوگوں کے بس سے ہاہر تھی ،شہر میں مقامی انتظامی او رمیئر کوئٹہ کی جانب سے کوئی سستا بازار نہیں لگایا گیا اور لوگوںکو رمضان المبار ک میں مہنگا ترین گوشت ،سبزی اور فروٹ خریدنا پڑا ،ضلع انتظامیہ مہنگائی کو روکنے میں مکمل طورپر ناکام ہوگئی ہے ،،رمضان المبارک شروع ہونے سے پہلے بہت بڑے بڑے دعوے کئے گئے مگر 4رمضان المبارک کے گزرنے کے باوجود بھی مہنگائی پر نا تو قابو پایا جاسکا اور نا ہی سستا بازار لگایا گیا ۔