ایبٹ آباد کے گراں فروشوں کو رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی صارفین پر رحم نہیں آیا

کالج روڈ پر مختلف اشیائے خوردونوش کی قیمتیں شہر کے مقابلہ میں کہیں زیادہ وصول کی جانے لگی ہیں، صارف

جمعہ مئی 22:00

ایبٹ آباد۔ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 25 مئی2018ء) گراں فروشوں کو رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بھی صارفین پر رحم نہیں آیا۔ منڈیاں کے گردو نواح اور کالج روڈ پر مختلف اشیائے خوردونوش کی قیمتیں شہر کے مقابلہ میں کہیں زیادہ وصول کی جا رہی ہیں، انتظامی افسران جرمانوں تک محدود ہیں۔ اس ضمن میں ایک صارف نے بتایا کہ شہر میں 150 روپے کے عوض ملنے والا کھجور کا پیکٹ منڈیاں میں 200 روپے میں فروخت ہو رہا ہے، اسی طرح شہر میں200 روپے میں بکنے والی چیری منڈیاں اور کالج روڈ پر 270 روپے میں بیچی جا رہی ہے جبکہ بھنے ہوئے کالے چنے جو شہر میں 60 روپے پاؤ فروخت ہوتے ہیں منڈیاں میں ان کی قیمت 80 روپے فی پائو وصول کی جا رہی ہے۔

اس اعتبار سے دیکھا جائے تو پرچون فروش شہر کے مقابلہ میں ہر ایک من چنے کے ساتھ 3200 روپے اضافی قیمت وصول کر رہے ہیں جبکہ دیگر دونوں پارچات کی زائد قیمتوں پر بھی نظر دوڑائی جائے تو 25 فیصد سے زیادہ اضافہ بنتا ہے۔

(جاری ہے)

سامنے آنے والی تین اشیاء کے علاوہ بھی متعدد اشیاء ایسی ہیں جن کے متعلق تھوڑی سی معلومات کے ذریعہ شہر اور اس سے ہٹ کر واقع آبادیوں میں نرخوں کا تضاد سامنے آ سکتا ہے ۔

حیرت اس بات پر ہے کہ شہر سے سوزوکی کا کرایہ 12 روپے ہے مگر چند کلومیٹر کے فاصلے پر بیٹھا دوکاندار من مانے اضافے کے ساتھ صارفین کو لوٹنے میں پوری طرح سرگرم ہے مگر انتظامیہ کو منڈیاں اور اس کے گردو نواح جانے کی یا تو ہمت نہیں ہوتی یا کوئی اور وجہ اس کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔ عوامی حلقوں نے شہر میں چھاپے مار کر تصویریں اخبارات کی زینت بنوانے والے افسران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ منڈیاں اور گردو نواح کی حالت زار پر بھی توجہ دیں جہاں شہریوں کی چمڑی اتاری جا رہی ہے۔

متعلقہ عنوان :