لاہور ہائیکورٹ نے کاغذات نامزدگی میں تبدیلی کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت کے وکلاء کو تحریری جواب اور بحث کے لیے آخری موقع دیدیا

منگل مئی 22:43

لاہور۔29 مئی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 29 مئی2018ء) لاہور ہائیکورٹ نے 2018 کے انتخابات میں اراکین اسمبلی کے لیے کاغذات نامزدگی میں تبدیلی کے خلاف درخواست پر وفاقی حکومت کے وکلاء کو تحریری جواب اور بحث کے لیے آخری موقع دیدیا اور باور کرایا کہ اہم نوعیت کے معاملے میں تاخیر برداشت نہیں کری. لاہور ہائیکورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے مقامی وکیل سعد رسول کی درخواست پر سماعت کی، سماعت کے دوران وفاقی حکومت کے وکیل نے جواب داخل کرانے کے لیے مہلت کی استدعا کی،عدالت نے سرکاری وکیل کو جواب داخل کرنے کی مہلت دے دی، عدالت نے کہا کہ انتخابات سے قبل عدالت نے اس بات کا تعین کرنا ہے کہ کاغذات نامزدگی میں کی جانے والی تبدیلیاں درست ہیں یا نہیں ،درخواست گزار وکیل اور الیکشن کمیشن کے وکیل نے اپنے اپنے دلائل مکمل کر لیے۔

(جاری ہے)

درخواست گزار وکیل نے کہا کہ پارلیمنٹ کو امیدواروں کے کاغذات نامزدگی بنانے کا اختیار ہی نہیں اور قانون کے تحت کاغذاتِ نامزدگی کے فارم بنانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے، انہوں نے استدعا کی کہ کاغذات نامزدگی کے فارم میں تبدیلوں کو آئین کے منافی قرار دے کر کالعدم کیا جائے،درخواست پر مزید کارروائی آج بدھ تک ملتوی کر دی گئی ۔