ناامیدی اور پریشانی سے دوچار خواتین فٹبالرز پاکستان فٹبال فیڈریشن پر برس پڑیں

بدھ جون 16:18

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 06 جون2018ء) ناامیدی اور پریشانی سے دوچار خواتین فٹبالرز پاکستان فٹبال فیڈریشن پر برس پڑیں، مواقعوں کی کمی کے سبب ملک میں کھیلوں کو بطور پروفیشن اپنانا مشکل ہوتا جا رہا ہے، مینز فٹبال میں بھی صورتحال ابتر جبکہ ویمنز فٹبالرز کیلیے معاملہ ان سے بھی زیادہ گھمبیر ہے،2010 میں قائم کی جانے والی پاکستانی ویمنز فٹبال ٹیم اب تک صرف 8 انٹرنیشنل میچز کھیل پائی۔

جس میں اوسطا انھیں ہر برس صرف ایک بین الاقوامی مقابلہ کھیلنے کا موقع مل پایا، اب تک آخری بار قومی ویمنز فٹبال ٹیم نے 2014 کے سائوتھ ایشین فٹبال فیڈریشن (ساف ) ویمنز چیمپئن شپ میں شرکت کی جو اسلام آباد میںمنعقد ہوئی تھی، ایسے میں پاکستانی ویمنز فٹبالرز میں پریشانی اور بے چینی بلاوجہ نہیں ہے، اس تمام صورتحال میں قومی کپتان حاجرہ خان کا کہنا تھا کہ مجھے کوئی امید نہیں ہے، میں اپنی لیگ منعقد کرانے کا ارادہ رکھتی ہوں کیونکہ فیڈریشن ملکی ویمنز فٹبال کے بارے میں سنجیدہ نہیںہے،خواتین فٹبالرز کیلیے کچھ نہیں کیا جارہا، وہ سال کے آخر میں نیشنل چیمپئن شپ منعقد کرانے کا منصوبہ بنارہے ہیں، ملک میں مینز فٹبال بھی طویل عرصے کے بعد بحال ہوئی ہے، پاکستان کی مینز فٹبال ٹیم ایشین گیمز اور رواں برس کے اواخر میں شیڈول ساف گیمز کی تیاریوں میں مصروف ہے، دوسری جانب پاکستان ستمبر میں اے ایف سی انڈر16 چیمپئن شپ کوالیفائرز میں حصہ لے گا اور اس کے بعد اے ایف سی انڈر19 ویمن چیمپئن شپ کوالیفائر بھی اکتوبر میں شیڈول ہے۔

(جاری ہے)

جس میں قومی ٹیم پہلی بار شریک ہونے جارہی ہے، تاہم سینئر خواتین فٹبالرز کو مسابقتی کھیل میں واپسی کیلیے سال کے اختتام تک انتظار کرناہوگا جب نیشنل چیمپئن شپ منعقد ہوگی، میں اپنی ذاتی لیگ منعقد کرانے کا پروگرام بنارہی ہوں، حاجرہ اور سابق کپتان ثنا محمود نے خود کو فٹ رکھنے کیلیے اسلام آباد میں رمضان ٹورنامنٹس میں شرکت کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے، دوسری جانب حاجرہ سے اتفاق کرتے ہوئے دیا ایف سی کی بانی اور پی ایف ایف ویمنز آفیشل سعدیہ شیخ نے کہا کہ فیڈریشن ویمنزفٹبال کیلیے سنجیدہ نہیں ہے۔

اسکے غیرفعال ہونے کی وجہ سے کئی پلیئرز کھیل سے دور جاچکی ہیں، سماجی دبائو کے سبب بھی کئی پلیئرز نے کھیل کو خیرباد کہہ کر گھر بسالیے ہیں،سعدیہ نے مزید کہا کہ پی ایف ایف کو خواتین کوچز کو بھی سامنے لانا چاہیے، انھیں ثناجیسی پلیئرز کو کوچنگ میں لانے کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے، میں اے ایف سی کی شکرگزار ہوں ، جس نے پی ایف ایف کو انڈر16 اور19 ٹیمیں سامنے لانے پر مجبور کیا، ملکی فیڈریشن کو چاہیے کہ وہ غیرملکی کوچز کی خدمات بھی حاصل کرے، انھیں محض رسمی کارروائی کرنے کے بجائے مربوط کوششیں کرنا ہوں گی، ادھر پی ایف ایف کے ٹیکنیکل ڈائریکٹر شہزاد انور ویمنز فٹبال کیلنڈر پر رائے دینے کیلیے دستیاب نہیں ہوسکے۔۔