صوبے میں شعبہ صحت کی درجہ بندی نے علاج معالجے کی سہولیات میںانقلابی طورپر بہتری لائی ہے جسٹس (ر) دوست محمد

منگل جون 19:46

صوبے میں شعبہ صحت کی درجہ بندی نے علاج معالجے کی سہولیات میںانقلابی ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 12 جون2018ء) نگران وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا جسٹس (ر) دوست محمد خان نے کہاہے کہ صوبے میںصحت کے شعبے کی درجہ بندی نے علاج معالجے کی سہولیات میںانقلابی طورپر بہتری لائی ہے جبکہ ڈاکٹر وں ورعملے کے لئے مراعات سے منسلک اصلاحات نے بھی اداروں میں ولولہ انگیز تحریک اورترغیب پیدا کی ہے۔ ان خیالات کااظہار انہوں نے وزیر اعلیٰ سیکرٹریٹ پشاورمیں ایک اعلیٰ سطح اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کیا۔

اجلاس میں وزیر اعلیٰ کے پرنسپل سیکرٹری شہاب علی شاہ ، ایس ایس یو کے سربراہ صاحبزادہ سعید اوردیگر متعلقہ افسران نے بھی شرکت کی۔ اس موقع پر سیکرٹری محکمہ صحت عابد مجید نے وزیر اعلیٰ کو صحت کے شعبے میںاصلاحات اور سرکاری شعبے کے اداروں میں صحت کے شعبے میں اصلاحات اور سرکاری اداروں میںصحت کی سہولیات کی موثر ڈیلیوری کے لئے اقدامات سے متعلق بریف کیا۔

(جاری ہے)

وزیر اعلیٰ نے ہدایت کی تمام شعبوں میںوسائل کو موثر چاک وچوبند طورپربروئے کار لایا جائے جبکہ صحت کاشعبہ وہ اہم شعبہ ہے جہاں سرمایہ کاری کی یہ پیداوار میں اضافہ کرتی ہے، گھرانے کے کمانے والے فرد کی بیماری ،معاشرے اورخاندان پر مختلف اقسام کے بڑے بوجھ کاباعث بھی بنتی ہے جسٹس (ر) دوست محمد خان نے کہا کہ کہ آبادی میں بے تحاشہ اضافے اورماں کے دودھ پرکم توجہ وہ خطرناک وجوہات ہیں۔

جو قومی ترقی وخوشحالی کے لئے بے حد نقصان دہ ہیں ۔دونوں شعبوں پر خاص توجہ کی ضرورت ہے اور صحت کے شعبے کو آبادی میںاضافے اورماں کے دودھ سے متعلق عوامی شعور بیدارکرنے پر خاص طورپر توجہ مرکوزکرنے چاہیے جبکہ ماں کے دودھ کی اہمیت اورافادیت سے متعلق ایل ای ڈی کے ذریعے ماہر گائنا کالوجسٹ کے پیغام بھیجے جائیں جن میں ماں کی دودھ کی افادیت اور اہمیت اجاگر کی گئی ہے ۔

انہوںنے اس امر پرزور دیا کہ مختلف نوعیت کی بیماریوں سے بچاؤ کے لئے اختیاطی تدابیر پر زیادہ توجہ مرکوزکرنے اورعملدرآمد کے لئے قابل عمل اورموثر حکمت عملی تیار کی جائے جبکہ معاشرے کوصوبے میںصحت سے متعلق مسائل کے بارے میں خبردار کرکے اس سلسلے میں عام لوگوں کو بھی حساس بنایاجائے۔نگران وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کسی معاشرے میںصحت کے شعبے میںسرمایہ کاری ہی دراصل بہتری سرمایہ کاری ہوتی ہے جبکہ اس ضمن میںہمیں صحت کے شعبے میں غیر معمولی اقدامات کرنے ہوں گے جن میں صوبے میںمختلف اقسام کی بیماریوں سے بچاؤ اور ان سے نمٹنے کے لئے معمول سے ہٹ کر اقدامات شامل ہیںجبکہ بیماریوں سے بچاؤ اور حفاظتی اقدامات سے متعلق لوگوں میںشعور اورآگاہی پیداکرنے سے صوبے میںصحت کے شعبے میں کام کافی حد تک آسان ہوجائیگا،محکمہ صحت کو ہسپتالوں کے اندر شکایات کے ازالے کے لئے کمپلینٹ سیل اورطریقہ وضع کرنا چاہیئے جن میںعوامی شکایات کو رجسٹرڈ کرکے 15 دونوں کے اندر حل کیاجائے ۔

انہوںنے زوردیا کہ صحت کے مقدس پیشے میںغیر اخلاقی مسائل نہیں آنے چاہئے۔اس لئے اس مقدس پیشے کی تدریس میں اخلاقیات کو ضرور شامل کرنا چاہیے ۔انہوںنے کہا کہ ترقی یافتہ معاشروں نے اپنے لئے اعلیٰ پیشہ وارانہ معیار بنائے ہیں اورہمیں ان پر عمل کی ضرورت ہے، تشخیص اوردوائی تجویز کرنے کے لئے سخت توجہ کی ضرورت ہوتی ہے اوراس کا بھر پورخیال رکھنا چاہئیے ۔

نگران وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوادوست محمد نے کہا کہ مختلف مراعات اور پیکجز کی وجہ سے پیشہ وارانہ کارکردگی میںبڑے پیمانے پر بہتری آئی ہے ، مراعات اورپیکجز اہلکاروں کی کارکردگی سے مشروط ہونی چاہئیے کیونکہ صحت ان حساس شعبوں میںسے ایک ہے جس میں مخلصانہ اورمرکوز کاوشوں کی ضرورت ہے کیوکنہ معاشرہ مجموعی طورپر اس پرمنحصر ہوتاہے۔ اس لئے صحت کے شعبے میںسٹرکچر کو بہتر بنانا بہت ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بعض اوقات تمام غلط کاموں کو ٹھیک کرنے کے لئے اپ کو مافیا کے خلاف لڑنا پڑتا ہے،جعلی اور غیر معیاری ادویات ایک جرم ہے اور اگر اس میں خدمات فراہم کرنے والے افراد کی چشم پوشی شامل ہوتو پھر یہ ہیلتھ ڈیلیوری سسٹم کو ہی مجرمانہ حد تک خراب کردیتاہے ۔اس لئے غیر صحت مندانہ کاموں کو صحت مندانہ کاموں میںبدلنے کے لئے حکومت خیبرپختونخوا کی قانون سازی ایک صحیح اقدام ہے۔

نگران وزیر اعلیٰ نے تمام ہیلتھ سیکٹر پراجیکٹس میں سینیٹیشن اورپینے کے پانی کی سہولیات شامل کریں اورڈویژنل سطح پر صحت کی دیکھ بھال کی سہولیات فراہم کرنے والے اداروں کو مضبوط بنانے کی ہدایت کی تاکہ مقامی لوگ اپنے اپنے اضلاع میںصحت کی بہتر سہولیات سے فائدہ اٹھاسکیں اور انہیں ایسی سہولیات کے لئے پشاور آنا نہ پڑے۔ انہوںنے خیبرپختونخوا میں شیر خوار بچوں کی شرح اموات میںاضافہ کانوٹس لیتے ہوئے ہدایت کی کہ اس سلسلے میں کارفرما عوامل کے ساتھ جامع اعداد وشمار جمع کیے جائیں اورمحکمہ صحت اس پرکام کرے ۔

انہوں نے کہا کہ ماں بچے کی نگہداشت کے نظام پر توجہ دینے اور اس سلسلے میں ماؤں میںآگاہی کی ضرورت ہے۔انہو نے کہا کہ علاج کے اخراجات پورے کرنے کے سلسلے میں جس میں غریبوں کی مددکی ضرورت ہے ۔انہوںنے کہا کہ بیماریو ں کے علاج میںناکامی کی اہم وجہ جدید ٹیکنیک کاعدم استعمال ،،تعلیم کا عدم حصول اورمعاشرے کے ثقافتی رسوم ہیںجہا مریض عموماً مہلک بیماریوں سے منسلکہ اطلاعات کو چھپاتے ہیں۔

نگران وزیر اعلیٰ دوست محمد نے بی آر ٹی پشاور کے تعمیراتی کام کی وجہ سے بننے والے گھڑوں کو بھرنے کی ہدایت کی تاکہ ڈینگی کے لاروے کی نشوونما کو روکا جاسکے۔ انہوںنے اس حوالے سے فوری عملدرآمد کی بھی ہدیت کی ۔۔ڈینگی وائرس کے روک تھام کے حوالے سے شعور کی بیداری کے کام بھر پور طریقے سے کرنے کی بھی ہدایت کی ۔انہوں نے محکمہ صحت کو ہدایت کی کہ وہ سروسز میں شفافیت لانے کے لئے ایک پلاننگ ونگ کو تشکیل دے۔