کچراکنڈیوں میں آگ لگانے کے واقعات منتخب نمائندوں کے خلاف سازش ہے ،ْ ریحان ہاشمی

بدھ جون 18:00

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 20 جون2018ء) بلدیہ وسطی میں کچراکونڈیوں میں آگ لگانے کی وارداتوںمیں کچراچُننے والی مافیہ ملوث ہے۔چیئرمین بلدیہ وسطی ریحان ہاشمی کچراکونڈیوں میں آگ لگانے کی متواتر وارداتوں پر برہم، منتخب بلدیاتی قیادت کے خلاف سازش قراردے دیا۔ کچرا چُننے والے مختلف اقسام کے پلاسٹک کوٹیڈ تاروں اور دیگر اشیاء سے مختلف دھاتوں ، اور تانبہ ، لوہے، اور سلور کے تاروں کے حصول کے لئے کوڑے میں آگ لگاتے ہیں۔

اِس عمل سے ایک جانب تو کچرے کی ڈھیرمیں آگ لگنے سے دھواں آبادیوں میں داخل ہوکر عوام کو سانس کی بیماریوںمیں مبتلا کررہا ہے جبکہ کچرے میں لگی آگ بلدیاتی اداروں کو کوڑا اُٹھانے میں پریشانی پیداکرنے کا سبب بنتی ہے۔ تاہم چیئرمین بلدیہ وسطی ریحان ہاشمی نے اِس عمل کو منتخب بلدیاتی قیادت اور منتخب عوامی نمائندوں کے خلاف سازش قراردیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ کچرے میں آگ لگانے کا عمل ایک جانب تو رہائشی علاقوں اور سڑکوں میں دھواں پھیلانے کا باعث ہے تو دوسری جانب شہریوں کی صحت کے لئے خطرہ ، یہ دو آتشہ خرابی معاشرے میں منتخب بلدیاتی نمائندوں کی ساکھ کو خراب کرنے کی گہری سازش نظر آتی ہے۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی ہے کہ کچراکونڈیوںمیں آگ لگانے والے افراد کا فوری پتہ لگاکر انکے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے۔ جبکہ کچرے کو غیر متعلقہ جگہوں پر پھینکنے اور اس کو آگ لگانے والے عناصر کے خلاف کاروائی کرنے کیلئے کئی خطوط بھی بلدیہ وسطی کی جانب سے متعلقہ اداروں کو بھجوائے جاچکے ہیں۔

متعلقہ عنوان :