چینی صوبہ جیانگ شی میں اسقاطحمل پر پابندی کا غیر معمولی اقدام

کسی ہسپتال میں سالانہ اوسطاً 13ملین خواتین اسقاط حمل کرواتی ہیں،رپورٹ

ہفتہ جون 16:43

بیجنگ(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) چین کے صوبہ جیانگ شی میں ایک غیر معمولی اقدام کے طور پر حمل کے 14ویں ہفتے کے بعد اسقاط حمل کے بارے میں نیا قانون جاری کیا ہے ۔ جس میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ خاتون کو تین طبی پیشہ ور افراد کی دستخط شدہ مرضی لینی ہوگی ۔صوبائی صحت وخاندانی منصوبہ بندی کمیشن نے ایک نوٹس جاری کیا ہے کہ جس میں کہا گیا ہے کہ ایسی خواتین جو چودہ ہفتے سے زیادہ کی حاملہ ہوں کو تین طبی پیشہ ور افرادکی دستخط شدہ منظوری حاصل کرنے ہوگی۔

جس میں اس امر کی تصدیق کی گئی ہو۔ کہ کسی طریقہ کار سے قبل طبی لہاظ سے اسقاط حمل ضروری ہے۔جیانگ شی حکومت سے وابستہ ایک ویب سائٹ نے اطلاع دی ہے کہ حکام ہسپتالوں ،طبی افراد ،سرٹیفیکیشنز اور اسقاط حمل کی گولیوں کے استعمال کی اہلیت کے بارے میں خصوصی تحقیقات کریں گے۔

(جاری ہے)

اس اقدام کا مقصد حاملہ عورت کے صحت کی سلامتی کا تحفظ کرنا ہے۔ کیونکہ چودہ ہفتوں کے بعد اسقاة حمل خطرناک ہے۔

تاہم اس کی وجہ سے آن لائن گرمہ گرم بحث چڑ گئی ہے۔بعض نے دعویٰ کیا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ان کی اندام نہانی کی جاسوسی کرنا ہے۔ایک خاتون نے کہا کہ یہ میرا حق ہے کہ میں بچہ پیدا کروں یا حمل گرا دوں اس بارے میں فیصلہ کرنا حکومت کا کام نہیں ہے۔کسی ہسپتال میں سالانہ اوسطاً 13ملین سے زیادہ خواتین اسقاط حمل کراتی ہیں ان میں وہ خواتین شامل نہیں ہیں جو اسقاط حمل کی گولیاں یا غیر قانونی شفاء خانے استعمال کرتی ہیں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسی خواتین میں زیادہ تر غیر شادی شدہ لڑکیاں ہیں ان میں سے نصف کی عمریں 25سے کم ہیں اور7.8فیصد کم از کم تین اسقاط حمل کراچکی ہوتی ہیں۔