الجزائر ، حکام نے امتحانات میں نقل کی روک تھام کیلئے منفرد اقدام

حکومت نے پورے ملک میں انٹرنیٹ اور فیس بک تک رسائی 6 دن تک بلاک کردی

ہفتہ جون 18:43

الجزائر (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 23 جون2018ء) پاکستان میں اکثر امتحانات کے دوران کسی پرچے کے قبل از وقت لیک ہونے کی خبریں سامنے آتی ہیں اور ایسا دنیا کے مختلف ممالک میں بھی ہوتا ہے، مگر ایک افریقی ملک نے اسے بہت زیادہ سنجیدہ لیتے ہوئے ایسا اقدام کیا، جو اپنی مثال آپ ہے۔الجزائر میں 2016 کے دوران امتحانات کے دوران امتحانی پرچوں کے سوالات آن لائن لیک ہوگئے، جس پر وہاں کی انتظامیہ نے اس بارانٹرنیٹ کے خلاف سخت اقدام کیا۔

اس مقصد کے لیے حکومت نے پورے ملک میں انٹرنیٹ اور فیس بک تک رسائی پورے 6 دن کے لیے بلاک کردی۔جی ہاں واقعی 20 سے 25 جون کے لیے اس ملک میں انٹرنیٹ کو مکمل طور پر بلاک کردیا گیا ہے۔۔فیس بک کے دنیا بھر میں سوا 2 ارب کے قریب صارفین ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اس میں ایسے مخصوص گروپس موجود ہیں جو امتحانی سوالات اور جوابات شیئر کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

ایسا ہی کچھ الجزائر میں 2016 میں ہوا تھا جب بڑے پیمانے پر امتحانی پرچے آن لائن لیک کرکے نقل کی گئی بلکہ کچھ مقامات پر تو امتحان شروع ہوتے ہی سوالات کے جوابات آن لائن شیئر کردیئے گئے۔

اس کو دیکھتے ہوئے گزشتہ سال وہاں سوشل میڈیا تک رسائی کو اس توقع پر بلاک کیا گیا کہ اس مسئلے پر قابو پایا جاسکے گا، مگر ایسا نہ ہوسکا۔تو اس سال الجزائر کی حکومت نے ٹیلی کام کمپنیوں کو امتحانات کے دوران انٹرنیٹ کی سروس ہی معطل کرنے کا حکم دے دیا۔امتحانات کے شروع ہوتے ہی وہاں لینڈ سروسز اور موبائل انٹرنیٹ سروسز کو روزانہ گھنٹوں معطل رکھا جارہا ہے، جبکہ ان 6 دن کے دوران فیس بک تک رسائی کو مکمل طور پر بلاک رکھا جائے گا۔ اسی طرح طالبعلموں اور عملے کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ امتحانی مراکز میں قدم رکھنے سے پہلے انٹرنیٹ تک رسائی رکھنے والی تمام ڈیوائسز حکام کے حوالے کریں، جبکہ نگران کیمرے اور میٹل ڈیٹیکٹرز کو بھی ان مقامات میں استعمال کیا جارہا ہے۔۔