اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کے ضمنی ریفرنس پر سماعت

ملزم سعید احمد کے وکیل کی گواہ پر جرح‘ مقدمے میں نامزد ملزمان کو عدالت کے روبرو پیش

Mian Nadeem میاں محمد ندیم بدھ ستمبر 14:24

اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کے ضمنی ریفرنس پر سماعت
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔26 ستمبر۔2018ء) سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف آمدن سے زائد اثاثہ جات کے ضمنی ریفرنس پر سماعت جاری ہے، مقدمے میں نامزد ملزمان کو عدالت کے روبرو پیش کیا گیا. تفصیلات کے مطابق آج اسلام آباد کی احتساب عدالت میں جج محمد بشیر ، سابق وزیرخزانہ کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے ریفرنس کی سماعت کررہے ہیں اس موقع پر مقدمے میں نامزد ملزمان سعید احمد، منصور رضا اور نعیم محمود عدالت کے روبرو پیش ہوئے.

سماعت کے دوران ملزم سعید احمد کے وکیل حشمت نے گواہ محسن امجد سے جرح کرتے ہوئے سوال کیا کہ جوتفصیلات آپ نے دیں ان میں سے پہلااکاﺅنٹ کب کھولاگیا؟.

(جاری ہے)

جواب میں گواہ نے بتایا کہ پہلااکاﺅنٹ28دسمبر1994میں کھولاگیا، 16مارچ2006میں فارن اکاﺅنٹ بندہواتھا. وکیل حشمت نے سوال کیا کہ اکاﺅنٹ میں آخری ٹرانزیکشن کب ہوئی تھی جس کے جواب میں گواہ محسن کا کہنا تھا کہ آخری ٹرانزیکشن 28 اگست 1995 میں ہوئی تھی جس پر وکیل نے سوال کیا کہ اکاﺅنٹس سے متعلق بینک اسٹاف کی انویسٹی گیشن ہوئی تھی؟.

گواہ کا جواب نفی تھا جس پر وکیل نے کہا کہ فرض کرسکتے ہیں5اکاﺅنٹس میں کوئی بے ضابطگی نہیں ہوئی، جس پر گواہ کا موقف تھا کہ اسے نہیں پتا لہذا وہ کچھ نہیں کہہ سکتا. دستخط کے حوالے سے وکیل نے سوال کیا کہ پاسپورٹ اور اکاﺅنٹ فارم پردستخط مشترک نہیں،یہ بات آپ کو کب پتہ چلی جواب میں گواہ بتایا کہ جب آپ نے دکھایااسی دن پتہ چلا. وکیل حشمت نے مزید سوال کیا کہ آپ نے اپنے سینئرزکوآگاہ کیااور اس پرکوئی ایکشن لیا گیا ؟، تو گواہ محسن کا کہنا تھا کہ بتایا تھالیکن کوئی ایکشن نہیں لیاگیا.

وکیل نے مزید سوال کیا کہ جب دستخط مشترک نہیں تویہ کہاجاسکتاہے5اکاﺅنٹ جعلی ہیں جس پر گواہ کا کہنا تھا کہ ہم نے کبھی نہیں کہاکہ یہ اکاﺅنٹس جعلی ہیں مزید سوال کیا گیا کہ دوسرے اکاﺅنٹ اوپننگ فارم پرجودستخط ہیں وہ اصل ہیں یاجعلی، جس پر گواہ کا کہنا تھا کہ اکاﺅنٹ اوپننگ کیلئے جوشناختی کارڈدیاگیااس سے دستخط ملتے ہیں. اس سوال پر نیب کے پراسیکیوٹر عمران شفیق نے اعتراض کیا کہ یہ سوالات مذکورہ گواہ سے متعلق نہیں ہیں.