دنیا کی تقریبا ً30 فیصد آبادی دور کی نظر کی کمزوری(مایوپیا) کا شکار ہے، اگر بروقت اسکی روک تھام نہ کی گئی تو2050 ء تک دنیا کی آدھی آبادی اس مرض کا شکار ہو جائے گی۔ماہرین

ہفتہ اپریل 21:15

دنیا کی تقریبا ً30 فیصد آبادی دور کی نظر کی کمزوری(مایوپیا) کا شکار ..
فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 20 اپریل2019ء) دنیا کی تقریبا ً30 فیصد آبادی دور کی نظر کی کمزوری(مایوپیا) کا شکار ہے اگر بروقت اسکی روک تھام نہ کی گئی تو 2050 ء تک دنیا کی آدھی آبادی اس مرض کا شکار ہو جائے گی۔ان خیالات کا اظہار ماہرین نے دی یونیورسٹی آف فیصل آباد میںمایوپیا (دور کی نظر کی کمزوری) کے موضوع پر اپنی نوعیت کی پہلی دوروزہ بین الاقوامی کانفرنس کی اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

انہوں نے بتایا کہ متوازن غذا اور وٹامنز کی کمی، وراثت میں دور کی نظر کا کمزور ہونا اور بالخصوص کثرت سے موبائل فون کا استعمال اسکی بڑی وجوہات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عام نظر کی کمزوری کو نظر انداز کرنے کی بجائے آنکھوں کا باقاعدگی سے معائنہ اور علاج کرانا چاہیے تاکہ مزید پیچیدگیوں سے بچا جا سکے۔

(جاری ہے)

یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز کے وائس چانسلر پروفیسر ڈکٹر جاوید اکرم نے اپنے خطاب میں کہا کہ متوازن غذا کی کمی کی وجہ سے دور کی نظر کی کمزوری کا مرض پاکستان میں تیزی سے پھیل رہا ہے ۔

اس متعلق آگاہی کیلئے دی یونیورسٹی آف فیصل آباد میں بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد لائق تحسین ہے۔کانفرنس میںامریکہ کے آئی ویژن انسٹیٹیوٹ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر آگسٹین ایل گونزیلز ، میڈیکل ڈائریکٹر اوپٹی میکس یو کے ڈاکٹر میلکم سیموئیل ، کالج آف فزیشنز اینڈ سرجنز پاکستان سے میجر جنرل (ر) ڈاکٹر مظہر اسحاق، الصحت فائونڈیشن گلگت سے ڈاکٹر ہاشم علی خان، جناح ہسپتال لاہور سے ڈاکٹر قاسم لطیف، میو ہسپتال لاہور سے ڈاکٹر سہیل سرور ، ہیڈ سکول آف اوپٹو میٹری یونیورسٹی آف لاہور ڈاکٹر قاسم جلالی ، شیخ زید میڈیکل کالج رحیم یار خان سے ڈاکٹر فیصل رشید ، دی یونیورسٹی آف فیصل آباد کے پرو ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر محمد سعید اور سکول آف اوپٹو میٹری کے ہیڈ پروفیسر ڈاکٹر عامر علی چوہدری نے خطاب کیا۔

ملک بھر سے 350 سے زائد ماہرین و مندوبین ، مدینہ ٹیچنگ ہسپتال کے ڈاکٹروں اور دی یونیورسٹی آف فیصل آباد کی اوپٹومیٹری کی طالبات نے کانفرنس میں شرکت کی ۔