ایشیائی بینکوں کی ترقی ڈیجیٹل بینکنگ اور ڈیٹا کی بہترین صلاحیتوں کے بغیر ممکن نہیں، اوریکل رپورٹ

جمعہ نومبر 19:53

ایشیائی بینکوں کی ترقی ڈیجیٹل بینکنگ اور ڈیٹا کی بہترین صلاحیتوں کے ..
کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 08 نومبر2019ء) اوریکل کی حالیہ رپورٹ میں ایشیائی بینکنگ کو متاثر کرنے والے عوامل کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ انہیں کسٹمر ایکسپیرئینس سے آگے کی سوچ اپنانی ہوگی اور ترقی کے لیے موجودہ رسک اور ریگولیشن کے مسائل کو کامیابی سے حل کرنا ہوگا۔ ڈیٹا پر مبنی اسٹریٹیجیز سے اپنی ترقی، فروغ اور منافع بڑھانے میں مدد لینی ہوگی۔

اوریکل کی رپورٹ ’’بی یونڈ ڈیجیٹل ۔ ڈیٹا ڈریون اسٹریٹیجز، ٹو گرو، اسکیل اینڈ پرافٹ‘‘ میں واضح کیا گیا ہے کہ روایتی بینکنگ ماڈل دوبارہ ڈیزائن کرنے کے ساتھ ڈیٹا سے مربوط نظام کے ذریعے فائدہ اٹھانا چاہیے۔ اسی طرح بینکوں کو اپنی رسائی ان علاقوں میں بھی فراہم کرنی ہوگی جہاں بینکنگ خدمات موجود نہیں ہیں۔

(جاری ہے)

بینکنگ سسٹم میں مالی جرائم کی روک تھام کے لیے اشتراک عمل بڑھانا ہوگا۔

اسی طرح چھوٹے اور درمیانے کاروباریت پر توجہ بڑھانی ہوگی۔روایتی بینکنگ کو فنانشل مارکیٹ میں ٹیکنالوجی رکھنے والے بڑے اداروں کی بڑے پیمانے پر آمد اور خدمات فراہم کرنے سے مقابلے کا سامنا ہے۔اسی طرح بینکوں کے متبادل ادارے اور نئی بینکنگ ریگولیشنز بھی روایتی بینکوں کے لیے تبدیلی کا پیش خیمہ ہیں۔ اسی طرح ورچوئل بینکنگ لائسنس کا اجراء نہایت اہمیت رکھتا ہے۔

اس حوالے سے ایپیک ریجن، سنگاپور، ہانگ کانگ اور ملائیشیا تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔گروپ نائب صدر جے اے پی اے سی اور مڈل ایسٹ ریجن، اوریکل فنانشل سروسز، ونکی سرینی وسان نے کہا کہ روایتی بینکوں کو شدید مقابلے کا سامنا ہے اور انہیں جدید خدمات کے لیے روایتی بینکنگ ماڈل کو دوبارہ ڈیزائن کرنا ہوگا۔ روایتی بینکوں کے مقابلے میں ورچوئل بینک زیادہ بہتر کارکردگی کے حامل ہیں اس کے باوجود انہیں بھی تین چیلنجز درپیش ہیں انہیں ریگولیٹرز کو اپنی قابلیت ظاہر کرنی ہوگی کہ وہ ان کی ہدایات پر عمل پیرا ہیں۔ انہیں ڈیٹا کو مونیٹائز کرنا ہوگا اور ہدایات پر عمل درآمد کو اپنی قوت بنانے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ عنوان :