شہزاد اکبر خفیہ طور پر کاروں کے گرد کھڑے ہو کر لوگوں سے "بریف کیس" لیتے ہیں

جو کچھ حکومت گزشتہ 18 مہینوں سے کر رہی ہے، وہ سب غیر متعلقہ ہے، عوام کو اس کا کوئی فائدہ نہیں، افتخار احمد

Khurram Aniq خُرم انیق جمعہ فروری 13:09

شہزاد اکبر خفیہ طور پر کاروں کے گرد کھڑے ہو کر لوگوں سے "بریف کیس" لیتے ..
لاہور(اردوپوائنٹ تازہ ترین اخبار-14فروری2020ء) عمران خان کی حکومت کو اقتدار میں آئے ہوئے 18 ماہ کا عرصہ گزر گیا ہے جس کے بعد تاثر پایا جا رہا ہے کہ وہ ناکام ہو گئے ہیں۔اسی پر بات کرتے ہوئے تجزیہ نگار افتخار احمد کا کہنا تھا کہ جو کچھ حکومت گزشتہ 18 مہینوں سے کر رہی ہے اس سے عام عوام کو فائدہ نہیں پہنچتا۔ وہ سب کچھ غیر متعلقہ ہے۔مزید بات کرتے ہوئے تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ شہزاد اکبر خفیہ طور پر کاروں کے گرد کھڑے ہو کر "بریف کیس" لیتے ہیں اور جو ان کو بولنے کے لئے کہا جا تا ہے وہ کہہ دیتے ہیں۔

یاد رہے کہ حکومت کی ناقص کارکردگی نے ان پر تنقید کے دروازے کھول دیئے ہیں۔عام عوام عمران خان کی حکومت سے شدید ناراض ہے جس کے بعد ان مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ عمران خان نے حکومت میں آنے سے پہلے جو وعدے کئے تھے وہ پورا کریں، اگر نہیں کر سکتے تو استعفیٰ دے دیں۔

(جاری ہے)

عمران خان کی کابینہ میں موجود شہزاد اکبر کو بھی کافی تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

معاون خصوصی عمران خان کو ان کی بیان بازی کی وجہ سے تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اسی پر بات کرتے ہوئے تجزیہ نگار افتخار احمد کا کہنا ہے کہ شہزاد اکبر لوگوں سے کاروں کے گرد کھڑے ہو کر بریف کیس بولتے ہیں اور ان کو جو بولنے کوکہا جاتا ہے وہ وہی بولتے ہیں۔وہ ایمانداری سے کام نہیں کر رہے اور یہی وجہ ہے کہ انہیں ہم تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔

اس سے قبل تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ گزشتہ 18 ماہ میں عمران خان نے جو کچھ کیا ہے وہ سب غیر متعلقہ ہے، عوام کو اس کاکوئی فائدہ نہیں ہے۔اور یہی وجہ ہے کہ عمران خان اپنا اعتماد کھو بیٹھے ہیں اور اب عوام بھی ان پر برہمی اکا اظہار کر رہی ہے۔کچھ دن قبل ایک تجزیہ نگار نے کہا تھا کہ لوگوں کو اب عمران خان کے ہونے یا نہ ہونے سے فرق نہیں پڑتا، انہیں بس دو وقت کا کھانا اور ایک اچھا روزگار چاہیئے۔