کھادوں کے مناسب استعمال کے بغیرزرعی پیداوارمیں اضافہ ممکن نہیں، ڈی ڈی زراعت

منگل جنوری 14:46

قصور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 12 جنوری2021ء) موجودہ دورمیں کھادوں کے مناسب استعمال کے بغیرزرعی پیداوارمیں اضافہ ممکن نہیں جبکہ پودوں کی بڑھوتری کے لئےثانوی غذائی جزووالی کھادیں خاص اہمیت کی حامل ہیں اور معاشی نقطہ نظر سے بھی کھادوں کا استعمال انتہائی ضروری ہے کیونکہ کاشتکار ایک روپے کی کھادکے بدلے 9روپے تک کی اضافی پیداوار حاصل کرسکتے ہیں۔

ڈپٹی ڈائریکٹرمحکمہ زراعت(توسیع)قصورنویدامجدنے”اے پی پی“کوبتایا کہ کھادوں کی اقسام کو تین حصوں میں تقسیم کیاجاسکتاہے ۔انہوں نے کہا کہ اجزائے کبیرہ والی کھادیں جن میں نائٹروجن‘ فاسفورس‘ پوٹاش وغیرہ شامل ہیں کی فصل کو اشدضرورت ہوتی ہے جبکہ دوسرے نمبرپر اجزائے ثانوی کا استعمال بھی سودمندہے اور کیلشیم‘ میگنیشیم ‘ سلفرفصلات پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے بتایا کہ اجزائے صغیرہ کا استعمال کاشتکاروں کو مالی منفعت فراہم کرنے کا پیش خیمہ ثابت ہوسکتاہے ۔انہوں نے کہا کہ جو کاشتکار اجزائے ثانوی پرمشتمل کیلشیم‘سنگل سپرفاسفیٹ ‘کیلشیم امونیم نائٹریٹ ‘ سلفر‘امونیم سلفیٹ‘ زنک سلفیٹ‘پوٹاش سلفیٹ وغیرہ کا ماہرین زراعت کے مشوروں سے استعمال کرتے ہیں انہیں بہترین فصل کے حصول میں کسی دشواری کا سامنانہیں کرناپڑتا۔