داعی اِتحاد اُمت مولانا ڈاکٹرسید عبد القادر آزاد ؒ عظیم انقلابی روحانی شخصیت کے مالک تھے‘پیر نور الحق قادری

مولانا آزاد ؒاتحاد‘ امن ‘سلامتی یکجہتی ‘ رواداری کے عالمی مبلغ و سفیر امن تھے ان کی عظیم خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا ہم اتحاد و یکجہتی کو مضبوط بنا کر دشمن قوتوں کو شکست دیں گے ملک کے خلاف کوئی سازش کامیاب نہیں ہونے دیں گے ‘داعی اتحاد امت کانفرنس سے خطاب

جمعہ جنوری 18:21

داعی اِتحاد اُمت مولانا ڈاکٹرسید عبد القادر آزاد ؒ عظیم انقلابی روحانی ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 جنوری2021ء) وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی پاکستان ڈاکٹر پیر نور الحق قادری نے کہا ہے کہ مولانا ڈاکٹر سید عبد القادر آزادؒ کی روشن خدمات کو تا دیر یاد رکھا جائے گا، وہ امن اتحاد رواداری اور بین المسالک و بین المذاہب ہم آہنگی کے عالمی مبلغ اور سفیر تھے ان کی کوششوں سے پاکستان میں امن مضبوط ہوا اور اتحاد رواداری کو فرغ حاصل ہوا ۔

ان خیالات کااظہارانہوںنے مجلس علماء پاکستان کے زیر اہتمام بادشاہی مسجد لاہور میں سابق خطیب بادشاہی مسجد حضرت مولانا ڈاکٹر سید محمدعبد القادر آزاد ؒ کی یاد میں جمعة المبارک کوعظیم الشان پیغام پاکستان کی روشنی سالانہ ’’داعی اِتحاد اُمت کانفرنس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

(جاری ہے)

مقررین نے کہا کہ مولانا آزاد انقلابی شخصیت کے مالک تھے ‘انہوں نے پاکستان کو امن کا گہوارہ بنانے کیلئے بے مثال جدو جہد کی ‘وہ تششدد اور انتہا پسندی کے خلاف تھے ۔

انہوں نے وطن عزیز پاکستان ‘ریاستی اداروں اور افواج پاکستان کے خلاف مسلح بغاوت کو حرام قراردیا تھا،وہ ایک پر امن اور مستحکم و خوشحال پاکستان کیلئے جدو جہد کرتے رہے اور انتھک جدوجہد کے بعد انہوں نے پاکستان کو امن کا گہوارہ بنا یا۔مقررین نے اپنے خطاب میں مولاناڈاکٹر سید محمدعبد القادر آزادؒکی خدمات کو زبر دست خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں امن و سلامتی ‘رواداری ‘ مذہبی ہم آہنگی اور اتحاد امت کاعظیم کام مولانا آزاد نے شروع کیا تھا،وہ کامیابی کے راستے طئے کرتا ہوا منزل مقصود کو پہنچا ’’پیغام پاکستان‘‘ مولانا ڈاکٹر سید عبد القاادر آزاد کے فلسفہ اتحاد ویکجہتی اور امن و سلامتی کا ترجمان ہے آج پیغام پاکستان ملک کے ہر گھر کی آواز بن چکا ہے۔

مولانا ڈاکٹر سید عبد القادر آزادؒ افواج پاکستان اور سیکورٹی کے تمام ریاستی اداروں کے خلاف مسلح جدو جہد کے سخت مخالف تھے ۔انہوںنے ہمیشہ افواج پاکستان کے حق میں آواز بلند کی اور تمام ریاستی اداروں کے ساتھ تعاون کو آگے بڑھایا ‘وہ مذہبی تعصب اور تنگ نظری کے سخت خلاف تھے‘ ان کے پیش نظرہمیشہ وسعت قلبی کے ساتھ ہر فریق کی بات سننا اور معاف کرنا رہا۔

انہوںنے ملک میں فسادات کی آگ کو بجھا دیا اور امن وسلامتی کے چراغ روشن کیئے۔ مقررین نے اپنے خطابات میں کہا کہ مولانا داکٹر سید عبد القادر آزاد ؒکو 1974میں پاکستان میں منعقد ہونے والی عالمی اسلامی سربراہی کانفرنس کے موقع پر تمام اسلامی ممالک کے سربراہوں کی امامت کا شرف حاصل ہوا اور امام الملوک و السلاطین کا اعزاز حاصل ہوا ، امن اتحادو رواداری اور مذہبی ہم آہنگی کیلئے مولانا آزادؒ کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان کی سلامتی و استحکام کیلئے کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے ہماری ہمدردیاں اور پورا تعاون افواج پاکستان اورتمام سیکورٹی اداروں کے ساتھ ہے ‘ ہم ملکی سلامتی اورتحفظ کیلئے افواج پاکستان اور تمام سیکورٹی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں ۔مقررین نے کہا کہ ملک کو اس وقت اتحادامن و یکجہتی کی ضرورت ہے ‘ علماء کرام کو مولانا ڈاکٹرسیدعبد القادر آزادؒ کی طرح اتحاد و یکجہتی کے فروغ کیلئے بھر پورجدو جہد کریں ۔

مقررین نے اپنے خطاب میں کہا کہ پیغام پاکستان کی کامیابی ملکی سلامتی اتحاد و یکجہتی کیلئے تمام علماء کرام ایک پلیٹ فار م پر جمع ہیں‘ دشمن قوتوں کو اتحاد یکجہتی کو مضبوط بنا کر شکست دیں گے۔مقررین نے کہا کہ پاکستان کا بچہ بچہ ملکی سلامتی کے دفاع کیلئے تیا رہے‘ پاکستان کی سلامتی‘دفاع اور تحفظ کیلئے علماء کرام نے ہمیشہ قوم کو تیار رکھاہے اور آئندہ بھی قوم کو بیدار رکھیں گے۔‘ کانفرنس کے اختتام پر ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اظہاریکجہتی کیا گیا ۔